menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Awam Ke Paison Par Ayyashiyan

31 0
03.05.2026

عوام کے پیسوں پر عیاشیاں

میں پچھلے دو دنوں سے تین ویڈیوز کے بوجھ تلے دبا ہوا ہوں اور سچ پوچھیں تو یہ ویڈیوز نہیں تھیں، یہ اس ملک کے نظام کی کھلی کتاب تھیں، ایسی کتاب جس کے ہر صفحے پر ایک ہی جملہ لکھا تھا "یہ ملک عوام کا نہیں، مراعات یافتہ طبقے کا ہے"۔

پہلی ویڈیو لاہور کے ایک مصروف شاپنگ سینٹر کے باہر کی تھی۔ سرکاری نمبر پلیٹ والا ویگو ڈالا، پولیس کا باوردی ڈرائیور، ساتھ مسلح گارڈ۔ صحافی نے سوال کیا "صاحب کہاں ہیں؟" جواب آیا "صاحب نہیں، صاحب کی بیگم شاپنگ کرنے آئی ہیں"۔

دوسری ویڈیو میں ایک سرکاری کرولا تھی۔ ڈرائیور سے پوچھا گیا "صاحب کہاں ہیں؟" جواب ملا "میں صاحب کے بچے کو سکول سے لینے آیا ہوں"۔

تیسری ویڈیو، وہی کہانی، صرف الفاظ بدلے "بیگم صاحبہ سوٹ لینے آئی ہیں"۔

یہ تینوں ویڈیوز دیکھنے کے بعد ایک سوال میرے ذہن میں بار بار گونجتا رہا: کیا واقعی یہ ریاست عوام کے ٹیکس سے چلتی ہے یا یہ کسی اشرافیہ کی ذاتی جاگیر بن چکی ہے؟

ہمیں روز بتایا جاتا ہے کہ ملک مشکل معاشی حالات سے گزر رہا ہے۔ ہمیں کہا جاتا ہے کہ پیٹرول بچائیں، بجلی کم کریں، اخراجات محدود کریں۔ لیکن انہی دنوں میں سرکاری گاڑیاں، سرکاری ڈرائیور اور سرکاری پیٹرول، بیگمات کی شاپنگ اور بچوں کی سکول سے پک اینڈ ڈراپ سروس میں لگے ہوئے ہیں۔

یہ کوئی ایک واقعہ نہیں، یہ ایک سوچ ہے۔

یہ وہ سوچ ہے جو کہتی ہے "ریاستی وسائل ہمارے لیے ہیں، عوام صرف انہیں بھرنے کے لیے ہے"۔

اب ذرا دنیا کی طرف چلتے ہیں۔

امریکہ میں 2017ء میں ایک بڑا........

© Daily Urdu (Blogs)