Sar e Aam Saza e Maut Aur Maghrib Ka Dohra Mayar
سرِعام سزائے موت اور مغرب کا دوہرا معیار
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی جانب سے امریکی فوجی نڈال ملک حسن کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دینے اور اسے براہِ راست نشر کرنے کے اعلان نے دنیا بھر میں سیاسی، قانونی اور اخلاقی بحث چھیڑ دی۔ اس اقدام کا مقصد یہ بتایا گیا کہ عوام سنگین جرائم کے بھیانک نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں اور عبرت حاصل کریں۔ یاد رہے کہ نڈال حسن نے 2009ء میں ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کرکے 13 فوجیوں کو ہلاک اور 32 افراد کو زخمی کیا تھا۔ فوجی عدالت نے 2013ء میں اسے سزائے موت سنائی، تاہم مختلف عدالتی مراحل سے گزرنے کے بعد اس کی سزا پر عمل درآمد 3 دسمبر 2026ء کو ہوگا۔ اس سزا کو براہِ راست نشر کرنے کے اعلان پر امریکہ سمیت دنیا بھر میں بحث جاری ہے، جبکہ عوامی دباؤ کے باعث امریکی صدر اور نائب صدر کی جانب سے بھی اس اقدام کی مخالفت سامنے آئی ہے۔
بہرحال، اس صورتِ حال میں مغربی معاشرے کا ایک مختلف رخ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہی مغربی ممالک پاکستان سمیت دوسری اور تیسری دنیا، بالخصوص مسلم ممالک میں سزائے موت اور سرِعام سزاؤں کے خلاف عالمی فورمز پر قراردادیں پیش کرتے اور انسانی حقوق کے حوالے سے بڑے بڑے........
