Pakistaniat He Hamari Baqa Hai
پاکستانیت ہی ہماری بقا ہے
پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک شناخت اور ایک اجتماعی ذمہ داری کا نام ہے۔ اس ریاست کا قیام بے شمار قربانیوں، جدوجہد اور واضح مقصد کے تحت عمل میں آیا۔ مگر بدقسمتی سے آج اسی پاکستان میں ایسے افراد اور حلقے موجود ہیں جو یہاں رہتے، یہیں کماتے اور اسی ریاست کے وسائل استعمال کرتے ہیں، مگر فکری اور عملی طور پر پاکستان سے دور دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی ترجیحات، وابستگیاں اور سیاسی ہمدردیاں بظاہر پاکستان کی بجائے سعودی عرب، افغانستان اور ایران کے گرد گھومتی نظر آتی ہیں۔ یہ حلقے ان ممالک کے ہر اقدام کی غیر مشروط حمایت کرتے دکھائی دیتے ہیں، چاہے وہ اقدام علاقائی امن، بین الاقوامی قوانین یا خود پاکستان کے قومی مفادات کے منافی ہی کیوں نہ ہو۔
اس کے برعکس، جب بات پاکستان کے داخلی استحکام، سلامتی یا ریاستی نظم و نسق کی آتی ہے تو یہی عناصر احتجاج، انتشار، سول نافرمانی اور بعض صورتوں میں خونریزی کو بھی کسی بڑی نظریاتی جدوجہد کا نام دے کر جائز قرار دیتے ہیں۔ گویا پاکستان میں عدم استحکام ان کے لیے کوئی سنجیدہ مسئلہ نہیں۔ یہ ریاستِ پاکستان سے ہر ممکن فائدہ اٹھاتے ہیں، مراعات اور سہولتیں حاصل کرتے ہیں، مگر زبان اور عمل سے دوسرے ممالک کے گُن گاتے نظر آتے........
