Aqliaton Ke Naam Par Sharab Noshi
اقلیتوں کے نام پر شراب نوشی
رواں ماہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کی رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور کی جانب سے شراب پر مکمل پابندی کے لیے آئینی ترمیمی بل پیش کیے جانے کی خبر نے ایک بار پھر اس دیرینہ بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ کیا اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شراب کے موجودہ قانونی ڈھانچے کو برقرار رکھا جائے یا اسے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے؟
یہ محض ایک قانونی معاملہ نہیں بلکہ آئینی، مذہبی، سماجی اور سیاسی پہلوؤں کا حامل مسئلہ ہے، جس پر ماضی میں بھی کئی بار قانون سازی کی کوششیں ہو چکی ہیں، مگر ہر بار یہ کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئی ہیں۔ آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 37(h) میں ریاست کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شراب کے استعمال کی روک تھام کرے، سوائے اس کے طبی اغراض یا غیر مسلم شہری اپنے مذہبی مقاصد کے لیے اسے استعمال کریں۔
دوسری جانب آرٹیکل 227 یہ واضح کرتا ہے کہ تمام قوانین کو قرآن و سنت کے مطابق بنایا جائے گا اور کوئی ایسا قانون نافذ نہیں ہوگا جو اسلامی احکام سے متصادم ہو۔ تاہم اسی آرٹیکل میں یہ وضاحت بھی موجود ہے کہ اس شق کا اطلاق غیر مسلم شہریوں کے ذاتی قوانین اور ان کی شہری حیثیت پر نہیں ہوگا۔ یہی وہ آئینی توازن ہے جس کے گرد یہ ساری بحث گھومتی ہے۔
بل کے حامیوں........
