Qaumi Siasat Ki Bazyaft
قومی سیاست کی بازیافت
ریاستوں کی سیاسی زندگی میں بعض اوقات ایسے موڑ آتے ہیں جہاں مسائل کی کثرت سے زیادہ خطرناک چیز ان مسائل کے حل کے لیے اجتماعی بصیرت کا فقدان ہوتا ہے۔ پاکستان اس وقت ایک ایسے ہی مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں سیاسی کشیدگی، ادارہ جاتی عدم اعتماد، انتخابی تنازعات، علاقائی بے چینی اور قومی سطح پر بڑھتی ہوئی تقسیم ایک دوسرے سے جڑ کر ایک وسیع تر سیاسی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں جب وزیر اعظم کی جانب سے ایک نئے "میثاقِ جمہوریت" کی ضرورت پر زور دیا جاتا ہے تو اس تجویز کو محض سیاسی بیان سمجھ کر رد کر دینا بھی مناسب نہیں، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار نیت، شمولیت اور عملی اقدامات پر ہوگا، محض اعلانات پر نہیں۔
دنیا کی سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ ایک ایسے اجتماعی ضابطۂ کار کا نام ہے جس میں اقتدار کی منتقلی، اختلافِ رائے کا احترام، آئینی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کی حرمت بنیادی اصولوں کے طور پر تسلیم کیے جاتے ہیں۔ پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس آئین موجود نہیں بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ آئین کے ساتھ عملی وفاداری ہمیشہ یکساں نہیں رہی۔ 1973ء کا آئین قومی اتفاقِ رائے کی ایک غیر معمولی دستاویز تھا جس نے مختلف سیاسی و فکری دھاروں کو ایک مشترکہ قانونی اور سیاسی فریم ورک میں جمع کیا، مگر گزشتہ نصف صدی میں........
