menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mashriq e Wusta Ka Nazuk Tawazun

30 0
25.04.2026

مشرقِ وسطیٰ کا نازک توازن

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے اس نازک موڑ پر آ کھڑا ہوا ہے جہاں طاقت، حکمتِ عملی اور نفسیاتی دباؤ ایک دوسرے میں اس طرح پیوست ہو چکے ہیں کہ حقیقت اور بیانیہ میں امتیاز کرنا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز میں امریکی بحریہ کو جارحانہ اختیارات دینے اور ایرانی اہداف کے خلاف کھلی وارننگ نے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو نئی جہت دی ہے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی ترسیل اور سفارتی توازن پر بھی گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔ بظاہر یہ ایک عسکری پیش قدمی معلوم ہوتی ہے، مگر اس کے پسِ پردہ طاقت کے اظہار کے ساتھ ساتھ مذاکراتی برتری حاصل کرنے کی ایک پیچیدہ حکمتِ عملی بھی کارفرما دکھائی دیتی ہے۔

آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل رسد کی شہ رگ تصور کی جاتی ہے، محض ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ بین الاقوامی طاقتوں کے درمیان نفوذ و اثر کا پیمانہ بن چکی ہے۔ ایران کی جانب سے اس آبی راستے پر اپنی گرفت کا اظہار اور بحری مشقوں کے ذریعے طاقت کا مظاہرہ دراصل اس پیغام کا اعادہ ہے کہ تہران کسی بھی قسم کے دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ دوسری جانب ریاستہائے متحدہ امریکا کی جانب سے اس گزرگاہ پر کنٹرول کے دعوے اور بارودی سرنگوں کے خاتمے کے نام پر عسکری سرگرمیوں........

© Daily Urdu (Blogs)