14 August Ka Jashan Aur Adhoore Sawalat
14 اگست کا جشن اور ادھورے سوالات
14 اگست پھر آ گیا۔ آج ہم 79 واں یومِ آزادی منا رہے ہیں۔ پچھلے ہفتے ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں قوم کو مژدہ سنایا تھا کہ 14 اگست کو بھارت کو ایک چھوٹا سا سرپرائز دیا جائے گا۔ مئی 2025 کے پاک بھارت معرکے میں ملنے والی فتح کے بعد قوم کے سر فخر سے بلند ہوئے اور پاک فوج کی دفاعی برتری ایک بار پھر ثابت ہوئی۔ کل، تقریباً پندرہ ماہ بعد، اسلام آباد میں "یادگارِ فتح" کی تعمیر کے ساتھ اس معرکے کا جشن بھی منایا گیا۔ حال ہی میں ہونے والے "اسلام آباد ایگریمنٹ" اور پھر "سہ ملکی دفاعی معاہدہ مکہ" نے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر ایک نئی اور معتبر شناخت دی ہے۔
یومِ آزادی پر قوم حسبِ معمول جشن منا رہی ہے، لیکن وہ بیسیوں تلخ سوالات جو ہر 14 اگست کو سر اٹھاتے ہیں، آج بھی اپنے جواب کے منتظر ہیں۔
تقسیمِ ہند کی خوفناک اور خونی لکیر کھینچنے کے بعد اس ہولناک تباہی کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے والی نسل اب تقریباً ناپید ہو چکی ہے۔ چند ایک ہی بزرگ بچے ہیں۔ ان ہی میں سے ایک کی کہانی پر بھارتی ڈائریکٹر امتیاز علی نے فلم "میں واپس آؤں گا" تخلیق کی۔ یہ ایک سکھ کی دلدوز داستانِ حیات ہے، جو تقسیم کے وقت اپنی مسلمان محبوبہ کو پاکستان چھوڑ کر جانے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ وہ اب زندگی کی آخری سانسیں لے رہا ہے، مگر اس کی آنکھوں میں اپنی گم گشتہ محبت کو ایک آخری بار دیکھنے کی حسرت اب بھی زندہ........
