menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Rail Ka Mazdoor Khush Haal, Railway Khush Haal

23 0
31.08.2026

ریل کا مزدور خوشحال، ریلوے خوشحال

یار سی او صاحب، ادھر آئیں نا کیوں میرے لیے عذاب پیدا کرنے لگے ہیں؟ وفاقی وزیر برائے ریلوے محمد حنیف عباسی نے کراچی میں مزدوروں سے گفتگو کے دوران جب یہ جملہ کہا تو بظاہر یہ ایک لمحے کی برہمی تھی مگر حقیقت میں اس ایک جملے کے اندر پاکستان ریلوے کی اس پوری کہانی کا خلاصہ موجود ہے جو برسوں سے فائلوں، رپورٹوں اور دفتری اجلاسوں کے نیچے دبی ہوئی ہے۔ وزیرِ ریلوے نے جب مزدوروں کے مسائل براہِ راست سنے تنخواہوں کی تاخیر پر اظہارِ برہمی کیا اور سی ای او ریلوے کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا تو ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت سامنے آگئی کہ شاید ریلوے کی اصل تصویر وہ نہیں جو وزیر صاحب کو فائلوں میں دکھائی جاتی رہی ہے اصل تصویر تو وہ ہے جو پٹری کے کنارے کھڑا مزدور، ورکشاپ میں کام کرنے والا کاریگر، یارڈ میں ڈیوٹی دینے والا ملازم، ٹریک کی حفاظت پر مامور گینگ مین اور ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی پنشن کا منتظر بوڑھا پنشنر روزانہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے۔

بندن میاں کہتا ہے کہ وزیر صاحب آپ نے ایک اچھا دروازہ کھولا ہے اب اسے بند مت کیجیے گا۔ کراچی میں مزدوروں کے درمیان جانا محض ایک ملاقات نہیں بلکہ ریلوے کے زمینی حقائق تک پہنچنے کا ایک مؤثر راستہ ہے۔ آپ نے مزدوروں کی زبان سے ان کے مسائل سنے ہیں تو اب ضرورت اس امر کی ہے کہ فائلوں کی دنیا سے نکل کر ریلوے کے بڑے جنکشنوں، ورکشاپوں، یارڈوں، اسٹیشنوں اور ریلوے لائن کے کنارے کام کرنے والے ان لوگوں تک براہِ راست پہنچا جائے جن کے کندھوں پر اس پورے نظام کی حفاظت اور روانی کا بوجھ ہے۔

وزیر صاحب آپ نے مزدوروں کو فرمانِ نبوی ﷺ سنایا کہ مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو۔ یہ صرف ایک حدیثِ مبارکہ کا حوالہ نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ عدل کا اصول ہے۔ اگر ایک مزدور اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر دن رات ریلوے کی خدمت کرے مگر اسے دو دو تین تین ماہ تک تنخواہ نہ ملے تو سوال صرف انتظامی غفلت کا نہیں ہے بلکہ یہ ایک مزدور کے گھر کے چولہے، بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ زندگی کا سوال بن جاتا ہے۔ ریلوے کا گینگ مین اس پورے نظام کا شاید سب سے کم دکھائی دینے والا مگر انتہائی اہم کردار ہے۔ شدید گرمی ہو، سردی ہو، بارش ہو، دھند ہو یا رات کا اندھیرا گینگ مین پٹری کی حفاظت پر مامور ہوتا ہے۔ ٹرین کے محفوظ سفر میں اس کا کردار بنیادی نوعیت کا ہے مگر افسوس کہ یہی طبقہ سب سے زیادہ بنیادی سہولتوں سے محروم نظر آتا ہے۔ مناسب سیفٹی ایکوپمنٹ کی کمی، حفاظتی سامان کا ناکافی انتظام، جوتوں اور دیگر ضروری اشیا کے لیے محدود الاؤنس، یونیفارم کی عدم دستیابی اور ملازمت کا غیر یقینی مستقبل اس مزدور کے مسائل میں شامل ہیں۔ سب سے زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ ایسے حساس فرائض انجام دینے والے افراد کو بعض اوقات مختصر مدت کے کنٹریکٹ پر رکھا جاتا ہے اور چند ماہ بعد ان کی ملازمت ختم ہوجاتی ہے۔ جس شخص سے ہم ریلوے لائن کی حفاظت اور لاکھوں مسافروں کی زندگیوں........

© Daily Urdu (Blogs)