menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khazane Ki Zulfen Aur Pensioners Ke Aahen, Aik Talkh Muashi Dastan

36 0
01.06.2026

خزانے کی زلفیں اور پینشنر کی آہیں، ایک تلخ معاشی داستان

بندن میاں نے ایک بار پھر اپنی میلی چادر کو درست کیا سر کو ریلوے اسٹیشن کے اس بوسیدہ دیمک زدہ لکڑی کے بینچ کی پشت سے ٹکایا اور گہری تلخ مسکراہٹ کے ساتھ چکن کڑاہی والے اس شرفو ملازم کے بارے میں سوچنے لگے جس کا لطیفہ انہوں نے صبح ہی چائے کے کھوکھے پر پڑے اخبار کے دیمک زدہ ٹکڑے میں پڑھا تھا۔ شرفو کتنا خوش نصیب تھا کتنا بے باک اور حقیقت پسند تھا کہ اس نے ایک ہی جملے میں کائنات کا سب سے بڑا معاشی سچ اگل دیا تھا کہ بی بی جی شور مت مچائیں بے روزگار صاحب ہوئے ہیں میں نہیں مگر افسوس بندن میاں نے ایک سرد آہ بھری اور سوچا کہ اس ملک خداداد میں اس بستیِ بے حسی میں کہانی بالکل الٹ چکی ہے کیونکہ یہاں جب بھی ریاست مفلس ہوتی ہے جب بھی خزانے پر زوال آتا ہے جب بھی آئی ایم ایف کے کارندے کوڑے لے کر کھڑے ہوتے ہیں تو کٹوتی صرف شرفو جیسے غریبوں، بوڑھے پینشنرز، بیواؤں اور یتیموں کے نوالوں پر ہوتی ہے جبکہ ہمارے عالی مرتبت صاحبان کے شاہانہ اخراجات، ان کی چکن کڑاہیاں، ان کے پستہ مغز اور ان کے محلات کے چراغ اسی طرح روشن رہتے ہیں۔

بندن میاں جس اسٹیشن پر بیٹھے تھے وہ خود اس بوڑھے پینشنر کی طرح اجڑا ہوا، ویران اور نوحہ کناں تھا جس کی چھت سے برسات کا پانی ٹپکتا ہے اور جس کے در و دیوار سے گزرے ہوئے وقت کی عظمت کے سائے جھانکتے ہیں بالکل اسی طرح جیسے بندن میاں کے چہرے کی جھریاں ان کی چالیس سالہ تن دہی، ایمانداری اور رات دن کی اس چاکری کی گواہی دے رہی تھیں جو انہوں نے اس امید پر اس بے حس ریاست کے نام لکھ دی تھی کہ بڑھاپے میں جب ہڈیاں جواب دے جائیں گی جب بینائی دھندلا جائے گی اور جب ہاتھ پاؤں کانپنے لگیں گے تو یہ مملکتِ خداداد ایک مہربان ماں کی طرح ان کے سر پر دستِ شفقت رکھے گی انہیں پینشن کی صورت میں عزتِ نفس کی روٹی فراہم کرے گی اور انہیں کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ذلت سے بچائے گی مگر آج اسی اجڑے ہوئے اسٹیشن کی لکڑی کی بینچ پر بیٹھے بندن میاں کو یہ شدت سے احساس ہو رہا تھا کہ وہ اور ان جیسے لاکھوں ریٹائرڈ ضعیف العمر ملازمین، بیوائیں اور یتیم بچے اس اندھی نگری کے وہ بدقسمت شہری ہیں جنہیں صرف قربانی کا بکرا بنانے کے لیے زندہ رکھا گیا ہے۔

اس ملک کا معاشی نظام کتنا مضحکہ خیز اور کس قدر ظالمانہ ہے کہ جب بڑوں بڑوں یعنی معزز ارکانِ قومی اسمبلی، محترم ارکانِ صوبائی اسمبلی، جاہ و جلال والے منسٹر حضرات، عالی مرتبت چیئرمین سینیٹ، سینیٹرز، اسپیکر قومی اسمبلی اور ہمارے نہایت ہی معزز و محترم جج صاحبان کی تنخواہوں، مراعات، پروٹوکول، گاڑیوں، پٹرول کے لاامتناہی کوٹے اور مفت بجلی و گیس کی فراہمی کی باری آتی ہے تو اچانک بند خزانے کا منہ اس طرح کھل جاتا ہے جیسے علی بابا کا طلسماتی غار کھل گیا ہو تب بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف گہری اور پرسکون خوابِ خرگوش میں سویا رہتا ہے تب اس کے کارندوں کو پاکستان کی معیشت ڈوبتی ہوئی نظر نہیں آتی تب ملکی بقا کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوتا بلکہ ان مقتدر طبقات کے لیے تو تاحیات عیاشیوں، مراعات اور سیکیورٹی کا ایسا فول پروف بندوبست کیا جاتا ہے کہ الامان والحفیظ۔

یہاں تک کہ معزز جج صاحبان کے رخصتِ حیات پا جانے کے بعد بھی ان کے بعد از مرگ بھی ان کی بیواؤں اور بچوں کے شاہانہ نان نفقہ، رہائش، خادموں کی فوج اور پینشن کا ایسا لاجواب انتظام کیا جاتا ہے جیسے انہوں نے اس دھرتی پر کوئی ایسا ابدی احسان کیا ہو جس........

© Daily Urdu (Blogs)