menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aik Mulk Mukhtalif Pension Qawaneen

26 0
11.09.2026

ایک ملک مختلف پنشن قوانین

بندن میاں آج پھر قلم اٹھانے پر مجبور ہے کیونکہ معاملہ کسی ایک محکمے یا کسی ایک ادارے کے پنشنرز کا نہیں بلکہ اس ملک کے ان تمام بزرگ شہریوں کا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا قیمتی حصہ ریاست کی خدمت میں گزار دیا اور اب اپنی عمر کے اس حصے میں پہنچ چکے ہیں جہاں انہیں کسی انعام یا احسان کی نہیں بلکہ باعزت زندگی گزارنے کے لیے مناسب معاشی تحفظ کی ضرورت ہے۔ سوال بہت سادہ مگر نہایت اہم ہے کہ اگر پاکستان ایک ملک ہے اس کے شہری ایک قوم ہیں اور سب کے لیے آئین ایک ہے تو پھر پنشن کے بنیادی اصول مختلف کیوں ہیں۔ ایک طرف وفاقی ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا جاتا ہے دوسری طرف پنجاب کے پنشنرز کے لیے اضافہ صرف 3.5 فیصد کے قریب رہ جاتا ہے اور تیسری طرف بعض خودمختار ادارے اپنے پنشنرز کے لیے کہیں زیادہ بہتر مالی تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ یہ فرق صرف اعداد و شمار کا فرق نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک بزرگ انسان کی پوری زندگی اور اس کی عزت نفس کا سوال پوشیدہ ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالے سے سامنے آنے والے مراسلے نے اس بحث کو مزید اہم بنا دیا ہے جس کے مطابق یکم جولائی 2026 سے اسٹیٹ بینک کے ان ذاتی اور فیملی پنشنرز کے لیے 8 فیصد پنشن اضافے کی منظوری دی گئی ہے جو 30 جون 2026 تک ریٹائر ہو چکے تھے یا انتقال کر گئے تھے۔ اس کے ساتھ کم از کم پنشن اور فیملی پنشن 40 ہزار 700 روپے ماہانہ مقرر کی گئی ہے جبکہ بعض پنشنرز کے لیے کم از کم 4 ہزار روپے ماہانہ یقینی اضافے کی شق بھی رکھی گئی ہے۔ بلاشبہ جو ادارہ اپنے سابق ملازمین کے لیے بہتر پنشن کا انتظام کرتا ہے اسے اس کا حق ہے اور کسی پنشنر کو بہتر سہولت ملنے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ملک کے دوسرے پنشنرز کے لیے بھی اسی نوعیت کا کم از کم معاشی تحفظ یقینی کیوں نہیں بنایا جا سکتا ہے۔

بندن میاں کا سوال اسٹیٹ بینک کے پنشنرز سے نہیں بلکہ پالیسی بنانے والوں سے ہے کہ جب ایک ہی ملک میں ایک ادارہ اپنے پنشنرز کے لیے کم از کم 40 ہزار 700 روپے ماہانہ پنشن مقرر کر سکتا ہے تو پھر ایسے سرکاری ملازمین جو اپنی پوری جوانی ریاست کے دوسرے محکموں میں گزار چکے ہیں ان کے لیے کم از کم پنشن کا ایسا معیار کیوں مقرر نہیں کیا جاتا جو موجودہ مہنگائی کے مقابلے میں انہیں باعزت زندگی گزارنے کے قابل بنا سکے۔ ایک عام پنشنر کے لیے چند ہزار روپے کا اضافہ اور ایک نسبتاً بہتر پنشن لینے والے کے لیے اسی شرح کا اضافہ ایک جیسا اثر نہیں رکھتا۔ یہی وجہ ہے کہ صرف فیصد مقرر کرنا کافی نہیں بلکہ بنیادی پنشن کی کم از........

© Daily Urdu (Blogs)