Bachon Ki Tarbiyat: Qaumon Ke Mustaqbil Ka Khamosh Muammar
بچوں کی تربیت: قوموں کے مستقبل کا خاموش معمار
رات کے آخری پہر ایک بوڑھا باپ اپنے سوتے ہوئے بیٹے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آہستہ سے بولا: "میں تمہارے لیے دولت تو شاید بہت زیادہ نہ چھوڑ سکوں، لیکن اگر تمہیں اچھا انسان بنا سکا تو سمجھوں گا میری زندگی کامیاب ہوگئی۔ " شاید اس باپ کو معلوم تھا کہ دولت وقت کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے، مگر اچھی تربیت نسلوں تک زندہ رہتی ہے۔
ہر دور میں والدین نے اپنی اولاد کے روشن مستقبل کے خواب دیکھے ہیں۔ کوئی چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا ڈاکٹر بنے، کوئی انجینئر، کوئی اعلیٰ سرکاری افسر اور کوئی بڑا تاجر۔ ان خوابوں کی تعبیر کے لیے والدین اپنی خواہشات قربان کرتے ہیں، دن رات محنت کرتے ہیں اور اپنی جمع پونجی بچوں کی تعلیم پر خرچ کر دیتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ قابلِ تعریف ہے، لیکن ایک سوال ہمیں ضرور سوچنا چاہیے: کہ اگر بہترین تعلیم کے ساتھ بہترین تربیت نہ ہو تو کیا کامیابی مکمل ہو سکتی ہے؟
آج ہم ایسےایک معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ڈگریوں کی کمی نہیں، مگر اچھے کردار والے انسان کم ہوتے جا رہے ہیں۔ اعلیٰ........
