Bartania Mein Aise Kya Masail Hain Ke Wuzraye Azam Tik Nahi Pa Rahe?
برطانیہ میں ایسے کیا مسائل ہیں کہ وزرائے اعظم ٹک نہیں پاتے؟
برطانیہ کبھی سیاسی استحکام کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ مارگریٹ تھیچر گیارہ برس، ٹونی بلیر دس برس اور ڈیوڈ کیمرون چھ برس تک اقتدار میں رہے۔ لیکن 2016 کے بریگزٹ ریفرنڈم کے بعد منظرنامہ یکسر بدل گیا۔ گزشتہ دس برس میں ملک چھ وزرائے اعظم دیکھ چکا ہے اور اب کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد ساتویں وزیراعظم کی آمد متوقع ہے۔ یہ سوال اب صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی اور معاشی بھی بن چکا ہے کہ آخر برطانیہ میں ایسا کیا ہورہا ہے کہ کوئی وزیراعظم زیادہ دیر تک اقتدار میں نہیں رہ پاتا؟ اور کیا اسٹارمر کی جگہ آنے والا ان مسائل کا حل نکال سکے گا؟
کیئر اسٹارمر کی سیاسی موت بظاہر عجیب دکھائی دیتی ہے۔ وہ نہ کسی بڑے مالیاتی بحران کے ذمے دار تھے، نہ ان پر بدعنوانی کے الزامات لگے، نہ انھوں نے کوئی غیر مقبول جنگ چھیڑی۔ جولائی 2024 میں انھوں نے بھاری اکثریت سے اقتدار حاصل کیا تھا۔ اس کے باوجود انھیں دو سال سے بھی کم عرصے میں استعفا دینا پڑا۔ گارڈین کے تجزیہ نگار جوناتھن فریڈلینڈ نے لکھا کہ مستقبل کے مورخین شاید سب سے زیادہ حیرت اسٹارمر کے زوال پر کریں گے۔
برطانیہ کے موجودہ مسائل کا ذمے دار کوئی ایک وزیراعظم نہیں بلکہ یہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران جمع ہوئے ہیں۔ بریگزٹ کے معاشی اثرات، کووڈ کے بعد پیدا ہونے والی مالی مشکلات، روس یوکرین جنگ کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، دفاعی اخراجات کا بڑھتا بوجھ اور بوڑھی ہوتی آبادی کی فلاح پر بڑھتے اخراجات نے برطانوی حکومت کا ہاتھ تنگ کردیا ہے۔ اٹلانٹک میگزین کے مطابق ہر ترقی یافتہ ملک اس مسئلے سے دوچار ہے کہ کام........
