menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

America Iran Samjhote Mein Missile Program Aur Proxies Ka Zikr Kyun Nahi?

21 0
yesterday

امریکا ایران سمجھوتے میں میزائل پروگرام اور پروکسیز کا ذکر کیوں نہیں؟

امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والے 14 نکاتی سمجھوتے کا متن سامنے آنے کے بعد پہلے دن اس بارے میں تبصرے ہوتے رہے کہ اس میں کیا کچھ شامل ہے۔ لیکن دوسرے دن میڈیا کی توجہ اس نکتے پر رہی کہ متن میں کیا کچھ شامل نہیں ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہی خاموشیاں مستقبل میں اس معاہدے کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کریں گی۔

جنگ کے دوران واشنگٹن اور تل ابیب کی جانب سے ایران کے خلاف جو الزامات دوہرائے جاتے رہے، ان میں سب سے نمایاں ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام تھا۔ اسرائیل اور امریکا کے حکام بارہا یہ مؤقف اختیار کرتے رہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے ساتھ اس کی میزائل صلاحیتوں کو بھی محدود کرنا ضروری ہے۔ لیکن 14 نکاتی سمجھوتے میں میزائل پروگرام کے بارے میں کوئی شق موجود نہیں۔ رائٹرز کے مطابق اسی وجہ سے اسرائیل کے سیاسی اور عسکری حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے، کیونکہ ان کے نزدیک ایران کی اصل دفاعی اور تزویراتی قوت جوہری تنصیبات سے زیادہ اس کے میزائل نظام میں پوشیدہ ہے۔

سمجھوتے کے متن سے ایران کے پروکسی گروہوں کا معاملہ بھی غائب ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں........

© Daily Urdu (Blogs)