menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

6 Kirdaron Ki Kahaniyan, Jo Marne Ke Baad Zinda Hue

25 0
15.08.2026

چھ کرداروں کی کہانیاں، جو مرنے کے بعد زندہ ہوئے

عہدنامہ جدید کے مطابق حضرت عیسیٰ کو تقریباً 33 عیسوی میں رومیوں نے شہید کیا۔ لیکن تین دن بعد وہ اپنی قبر سے نکل کر اپنے حواریوں کے سامنے ظاہر ہوئے اور پھر آسمان کی طرف اٹھا لیے گئے۔ مسیحی ہر ایسٹر پر حضرت عیسیٰ کی اسی دوبارہ زندگی پر جشن مناتے ہیں۔

لیکن حضرت عیسیٰ واحد شخصیت نہیں جن کے بارے میں عقیدہ پایا جاتا ہے کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوئے۔ قدیم تہذیبوں میں مقدس کرداروں کے دوبارہ زندگی پانے کی کئی کہانیاں پہلے سے موجود تھیں۔ اسکاٹش ماہرِ بشریات جیمز فریزر نے اپنی کتاب دا گولڈن باو میں ایسے کئی واقعات کو بیان کیا ہے۔

قدیم مشرقِ وسطیٰ میں خداؤں کی موت اور دوبارہ زندگی کی کہانیاں زرعی موسموں سے گہرا تعلق رکھتی تھیں۔ فریزر کے مطابق غالب امکان یہی ہے کہ مسیحیوں نے ایسٹر کے لیے بہار کا زمانہ اس لیے چنا تاکہ یہ ان مشرکانہ تہواروں سے ہم آہنگ ہو جن میں دوبارہ زندہ ہونے والے خداؤں کی عبادت کی جاتی تھی۔ فریزر نے لکھا کہ مسیحی اور مشرکانہ تہواروں کے درمیان مماثلتیں اتنی زیادہ اور یکساں ہیں کہ انھیں محض اتفاق قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ان میں مرنے کے بعد زندہ ہونے والے مقدس کرداروں کی کہانیاں شامل ہیں۔

ایک کہانی تموز کی ہے جو میسوپوٹیمیا کی عظیم دیوی اشتر کا محبوب تھا۔ اشتر فطرت کی زرخیزی اور فراوانی کا سرچشمہ سمجھی جاتی تھی۔ تموز ایک خوبصورت نوجوان دیوتا تھا، جو ہر سال سردیوں میں مر جاتا اور تاریک زیرِ زمین دنیا میں چلا جاتا۔ اشتر سال کے چھ ماہ مردوں کی دنیا میں اپنے محبوب کو بچانے کے لیے سفر کرتی........

© Daily Urdu (Blogs)