Pakistani Awam Khofzada Kyun Hai?
پاکستانی عوام خوفزدہ کیوں ہے؟
عوام اور حکمرانوں کے درمیان خوف کا تعلق ایک پیچیدہ تاریخی، سماجی اور سیاسی حقیقت ہے جس کی جڑیں صرف موجودہ دور میں نہیں بلکہ طویل تاریخی تجربات میں پیوست ہیں۔ پاکستان جیسے معاشروں میں یہ خوف صرف ایک فطری جذباتی کیفیت نہیں بلکہ ادارہ جاتی رویوں، معاشی دباؤ اور طاقت کے غیر متوازن ڈھانچے کا نتیجہ بھی ہے۔ عام شہری جب ریاستی طاقت کے مختلف ستونوں کو دیکھتا ہے تو اس کے ذہن میں ایک ایسا تاثر بنتا ہے جس میں تحفظ اور جبر دونوں ایک ساتھ موجود دکھائی دیتے ہیں۔ یہی دوہرا احساس خوف کو جنم دیتا ہے اور اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
پاکستانی سماج میں گزشتہ چند دہائیوں میں سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور ادارہ جاتی کشمکش نے عوام کے اندر بے یقینی کو بڑھایا ہے۔ جب بھی حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں، پالیسیوں میں تسلسل نہیں رہتا، مہنگائی بے روزگاری اور وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم عوام کو مزید پریشان کرتی ہے۔ ایسے حالات میں عام شہری کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی آواز مؤثر نہیں اور اس کے مسائل فیصلہ سازی کے عمل تک نہیں پہنچتے۔ یہی احساس خوف کی پہلی شکل ہے جو خاموشی اور لاتعلقی میں بدل جاتی ہے جبکہ ریاستی اداروں کے بارے میں عوامی تاثر بھی اس خوف کو گہرا کرتا ہے۔
فوج کے بارے میں ایک طبقہ اسے ملک کی سلامتی کا ضامن سمجھتا ہے جبکہ دوسرا طبقہ اسے سیاسی معاملات میں اثرانداز........
