menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Jhoot Bolna Meri Majboori Hai

22 0
25.04.2026

جھوٹ بولنا میری مجبوری ہے

یہ جملہ بظاہر ایک اعتراف ہے مگر حقیقت میں ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ بھی ہے۔ آج انسان جھوٹ بولتے ہوئے شرمندہ نہیں ہوتا بلکہ اکثر اسے اپنی ضرورت اور مجبوری قرار دیتا ہے۔ گویا سچائی اب ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک نقصان دہ عادت سمجھی جانے لگی ہے۔ جو شخص سچ بولتا ہے وہ اکثر تنہا رہ جاتا ہے جبکہ جھوٹ بولنے والا ہجوم میں عزت اور کامیابی دونوں حاصل کر لیتا ہے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جس نے معاشرے کی بنیادوں کو ہلا دیا ہے۔

ایک شخص جو سچائی کا عَلم اُٹھائے رکھتا ہے وہ ابتدا میں یہ سمجھتا ہے کہ سچ ایک دن ضرور فتح پائے گا۔ وہ دیانت داری سے کام کرتا ہے۔ حق بات کہتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ انصاف کرتا ہے۔ جب وہ دیکھتا ہے کہ جھوٹ بولنے والے ترقی کی سیڑھیاں چڑھ رہے ہیں اور سچ بولنے والے مردود ٹھہرائے جا رہے ہیں تو اس کے اندر ایک شدید ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جاتی ہے۔ اس کی محنت کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس کے حقوق چھین لیے جاتے ہیں۔ اسے کمزور اور بے وقوف سمجھا جاتا ہے۔ اس کے سامنے بار بار یہ مثال رکھی جاتی ہے کہ اگر تم بھی تھوڑا سا جھوٹ بول لو تو زندگی آسان ہو سکتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کے ضمیر کا امتحان شروع ہوتا ہے۔ کچھ لوگ سچ پر قائم رہتے ہیں مگر اندر سے زخمی ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ خاموش ہو جاتے ہیں اور کچھ ہتھیار ڈال کر جھوٹ کو اپنا ذریعہ نمود بنا لیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ جب پورا نظام ہی جھوٹ پر چل رہا ہے تو میں سچا رہ کر کیا کر لوں گا۔ اس طرح ایک حسّاس اور ایماندار انسان آہستہ آہستہ اسی ظالم سماج کا حصہ بن جاتا ہے جس سے وہ نفرت کرتا تھا۔

جھوٹ نے عام انسان کی زندگی خراب نہیں کی بلکہ تاریخ کے بڑے بڑے حکمران بھی اسی کے........

© Daily Urdu (Blogs)