Fermi Paradox
اگر ہماری کہکشاں میں ہی اربوں ستارے موجود ہیں، ان میں سے کروڑوں کے گرد زمین جیسے سیارے گردش کر رہے ہیں اور کائنات کی عمر تقریباً 13.8 ارب سال ہے، تو پھر کسی دوسری ذہین تہذیب کا کوئی واضح ثبوت آج تک کیوں نہیں ملا؟ اگر کائنات زندگی کے لیے اتنی وسیع اور موزوں ہے تو آخر سب کہاں ہیں؟ یہی سوال فرمی پیراڈوکس کہلاتا ہے اور اسے جدید فلکیات اور کاسمولوجی کے سب سے بڑے معمہ جات میں شمار کیا جاتا ہے۔
سن 1950 میں اطالوی نژاد امریکی طبیعیات دان Enrico Fermi اپنے ساتھیوں کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے۔ بات خلائی مخلوقات اور بین النجمی سفر تک پہنچی تو فرمی نے اچانک ایک مختصر سوال پوچھا، "سب کہاں ہیں؟" یہی چند الفاظ بعد میں سائنس کی تاریخ کے مشہور ترین سوالوں میں شامل ہو گئے۔
یہ سوال اس لیے........
