Youm e Takbeer, Asal Heero Kon Hai?
یومِ تکبیر، اصل ہیرو کون؟
قوموں کی زندگی میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو صرف تاریخ کا حصہ نہیں بنتے بلکہ وہ آنے والی نسلوں کی سوچ، اعتماد اور قومی تشخص کا رخ متعین کرتے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں 28 مئی 1998 بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ یہ وہ دن تھا جب چاغی کے پہاڑوں نے اللہ اکبر کی صداؤں کے ساتھ دنیا کو بتایا کہ پاکستان صرف ایک جغرافیہ نہیں بلکہ ایک خوددار اور باوقار ریاست ہے۔ اسی دن کو ہم یومِ تکبیر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ مگر ہر سال ایک سوال شدت سے ابھرتا ہے کہ آخر یومِ تکبیر کا اصل ہیرو کون ہے؟ کیا یہ صرف ایک شخصیت کا کارنامہ تھا یا پوری قوم کی اجتماعی جدوجہد؟
اگر ہم تاریخ کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام کسی ایک فرد، ایک حکومت یا ایک ادارے کی کوشش نہیں تھا بلکہ یہ کئی دہائیوں پر محیط ایک قومی خواب تھا جسے مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے اپنی صلاحیت، جرات اور قربانی سے حقیقت بنایا۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنے کا سہرا سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔ 1971 کی جنگ کے بعد جب ملک دولخت ہوا تو بھٹو نے یہ تاریخی جملہ کہا تھا کہ "ہم گھاس کھا لیں گے مگر ایٹم بم ضرور بنائیں گے"۔ اس وقت شاید بہت سے لوگوں کو یہ صرف ایک جذباتی نعرہ لگا ہوگا لیکن درحقیقت یہ پاکستان کی دفاعی حکمت عملی........
