Wo Purana Keekar, Zinger Burger Aur Amir Sohail Mattu Ka Surprise
وہ پرانا کیکر، زنگر برگر اور عامر سہیل مٹو کا سرپرائز
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی، یا بندہ صحرائی یا مردِ کوہستانی۔ حکیم الامت علامہ اقبالؒ کا یہ فرمان دراصل دھرتی اور فطرت سے جڑے ان انسانوں کی عکاسی کرتا ہے جو زندگی کے اصل حقائق کو سمجھتے ہیں اور ہر حال میں اپنی مٹی سے جڑے رہتے ہیں۔ کچھ دنوں سے زندگی کی گہما گہمی اور روزمرہ کی مصروفیات نے ایسا گھیرا تھا کہ قلم اور کاغذ کے درمیان ایک عارضی فاصلہ آ گیا تھا۔ لیکن میرے ساتھ یہ ہمیشہ سے رہا ہے کہ جب بھی لکھنے میں کچھ وقفہ آ جائے، تو میرے اندر کے الفاظ مجھ سے بغاوت کر دیتے ہیں۔ وہ ذہن کے بند دروازوں پر دستک دیتے ہیں، وہ مجھے سونے نہیں دیتے، وہ مجھے مجبور کرتے ہیں کہ میں اٹھوں، قلم اٹھاؤں اور دھرتی کے رنگوں کو کاغذ پر بکھیر دوں۔ یہ الفاظ بھی عجیب ہوتے ہیں، جب تک انہیں ان کا ٹھکانا نہ ملے، یہ لکھاری کو تنگ کرتے رہتے ہیں اور پھر، جب دھرتی کی محبت اور ماں بولی کا احساس دل میں موجزن ہو، تو لفظ خود بخود راستے ڈھونڈ ہی لیتے ہیں کیونکہ ایک سچے کالم نگار اور سماجی کارکن کا دل ہمیشہ اپنے لوگوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔
پچھلے دنوں ایسے ہی ایک شام، میں نشتر کالونی کے ایک بڑے پارک کے کونے پر بیٹھا تھا۔ یہ نشتر کالونی بھی تاریخ کا ایک انوکھا باب ہے، جو ہمارے سیاسی اور سماجی ارتقاء کی گواہ ہے۔ یہ وہ بستی ہے جس کی بنیاد سابق وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں رکھی گئی تھی، جب غریبوں کے سر چھپانے کے لیے رہائشی منصوبے شروع کیے جا رہے تھے۔ بعد میں اس کا افتتاح میاں محمد نواز شریف نے تب کیا تھا جب وہ پنجاب کے وزیرِ خزانہ تھے۔ تاریخ کے........
