menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khaliq Nagar Ki Roshaniyan, Shukriya Maryam Nawaz

21 0
27.04.2026

خالق نگر کی روشنیاں، شکریہ مریم نواز

دنیا کے مشہور ماہرِ عمرانیات ابنِ خلدون نے صدیوں پہلے ایک سنہرا اصول بیان کیا تھا کہ "ریاست ایک وجود کی مانند ہے اور اس وجود کی صحت کا اندازہ اس کے کمزور ترین حصے سے لگایا جاتا ہے"۔ اگر کسی جسم کا ایک ہاتھ سونے کے زیورات سے لدا ہو لیکن پاؤں زخموں سے چور ہوں، تو آپ اس جسم کو صحت مند نہیں کہہ سکتے۔ یہی حال ہمارے معاشروں کا بھی ہے۔ ہم دہائیوں سے اسلام آباد اور لاہور کے ماڈل ٹاؤن یا گلبرگ جیسے علاقوں کو چمکا کر یہ سمجھتے رہے کہ پاکستان ترقی کر رہا ہے، لیکن ہم بھول گئے کہ اصل پاکستان ان گلیوں اور محلوں میں بستا ہے جہاں سورج ڈھلتے ہی اندھیرا اور خوف دیواروں سے لپٹ جاتا ہے، جہاں سڑکیں نہیں، کیچڑ ہوتا ہے اور جہاں سہولیات نہیں، صرف محرومیاں ہوتی ہیں۔

لاہور کے نقشے پر ایک ایسا ہی علاقہ "خالق نگر" ہے۔ یہ وہ بستی تھی جسے وقت کے حکمرانوں نے شاید اپنی فہرستوں سے خارج کر دیا تھا۔ اس علاقے کی پہچان کیا تھی؟ ایک طویل، بدبودار اور تعفن زدہ "گندی روہی" (نالہ)۔ یہ نالہ صرف پانی کا نکاس نہیں تھا، بلکہ یہ بیماریوں کا گڑھ، کوڑے کا ڈھیر اور علاقے کے مکینوں کے لیے ایک مستقل عذاب تھا۔ یہاں کے لوگ برسوں سے اس بدبو میں سانس لینے کے عادی ہو چکے تھے۔ سیاستدان انتخابات کے دوران آتے، سبز باغ دکھاتے، ووٹ لیتے اور پھر ان تنگ گلیوں کو اندھیروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنے محلات میں واپس چلے........

© Daily Urdu (Blogs)