Ustad: Aik Marta Hua Mansab Ya Hamari Marti Hui Baseerat?
استاد: ایک مرتا ہوا منصب یا ہماری مرتی ہوئی بصیرت؟
میں نے اکثر لوگوں کو اس بحث میں الجھے دیکھا ہے کہ زندگی میں کون سا پیشہ اختیار کرنا چاہیے اور اگر کوئی شخص اپنی پسند کا شعبہ چن بھی لے تو اسے سب سے پہلے یہ سوچنے پر لگا دیا جاتا ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ پیسہ کیسے کمایا جا سکتا ہے۔ جیسے کسی پیشے کی اصل قدر اس کے مقصد، معنویت اور معاشرے پر اس کے اثر سے نہیں بلکہ اس کی آمدن سے طے ہوتی ہو۔ خاص طور پر تدریس کے شعبے میں آنے والے نوجوانوں کی حوصلہ شکنی مجھے اکثر انہی لوگوں کی طرف سے دیکھنے کو ملی ہے جن سے نسبتاً زیادہ شعور اور وسعتِ نظر کی توقع ہوتی ہے۔ "Teaching میں کیا رکھا ہے؟" یا "پروفیسر یا ٹیچر بن کر کیا تبدیلی لا سکتے ہو؟" جیسے جملے اب اتنے عام ہو چکے ہیں کہ ہم نے شاید یہ سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے کہ ایک ایسا پیشہ جو براہِ راست نسلوں کی فکری تشکیل سے وابستہ ہے، آخر اتنا بے وقعت کیسے سمجھا جانے لگا؟
شاید مسئلہ کسی پیشے میں نہیں، ہماری نظر کے پیمانے میں ہے۔ ہم نے پیشوں کی معنویت کو ان کی مالی حیثیت سے ناپنا شروع کر دیا ہے اور یہ بھول گئے ہیں کہ ہر شعبے کا ایک essence، ایک مقصد اور ایک اجتماعی کردار ہوتا ہے۔ خاص طور پر استاد کا منصب محض روزگار کا ذریعہ نہیں، یہ انسان سازی کا عمل ہے۔ پھر سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ "استاد بن کر کتنا کما لوگے؟" بلکہ یہ ہونا چاہیے کہ "استاد بن کر کتنے اذہان بنا سکو گے؟"
ہمارے معاشرے کی بدقسمتی صرف یہ نہیں کہ استاد کی قدر کم ہوگئی ہے، اس سے کہیں بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے قدر کی تعریف ہی بدل دی ہے۔ ہم نے کامیابی کو دولت کے ترازو میں تولنا شروع کیا، عزت کو عہدے سے وابستہ کر دیا اور پیشے کی عظمت کو اس کی آمدن کے تابع کر دیا۔ نتیجتاً جس شخص کے ہاتھ میں نسلوں کی فکری تشکیل کا اختیار تھا، وہ ہمارے اجتماعی شعور میں محض ایک کم آمدنی والا ملازم بن کر رہ گیا۔
یہ سوال شاید ہمیں اپنے آپ سے زیادہ سنجیدگی سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ آخر ہم نے کب یہ طے کر لیا کہ جو شخص لاکھوں کما رہا ہے وہ کامیاب ہے، مگر جو شخص لاکھوں ذہنوں کی بنیاد رکھ رہا ہے، اس کی کامیابی کا کوئی شمار نہیں؟ معاشرے کی سب سے خطرناک تباہی وہ نہیں ہوتی جب عمارتیں گرنے لگیں، بلکہ اس وقت آتی ہے جب معاشرے کے پیمانے بدل جائیں۔ جب دولت علم پر فوقیت حاصل کر لے، نمود کردار سے زیادہ اہم ہو جائے اور پیشے کی قدر اس بات........
