Aik Nanhi Qabar Aur Bare Bare Jawaz
ایک ننھی قبر اور بڑے بڑے جواز
چکوال میں پیش آنے والا المناک واقعہ صرف ایک سنگین سانحہ نہیں، بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر کا امتحان ہے۔ ایک ایسا خاندان جو اپنے وطن آیا، اپنے لوگوں کے درمیان آیا، اپنے ہی ملک کی مٹی پر آیا، مگر واپسی پر اسے وہ تحفظ نہ مل سکا جس کی ضمانت ہر ریاست اپنے شہریوں کو دیتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک معصوم بچی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی، والدین شدید زخمی ہوئے اور ایک خاندان کی زندگی ہمیشہ کے لیے بدل گئی۔ اپنے وطن آمد ان کے حصے میں محظ ایک پچھتاوا چھوڑ گئی کہ شاید اگر وہ پاکستان نہ آتے تو آج انکی معصوم بچی انکی آنکھوں کے سامنے ہنستی کھیلتی موجود ہوتی۔
اس سانحے کے بعد دو طرح کے ردعمل سامنے آئے۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو اسے ظلم، غفلت اور ریاستی ناکامی قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری طرف وہ افراد ہیں جو یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ چونکہ سی سی ڈی نے ماضی میں جرائم کے خلاف مؤثر کردار ادا کیا ہے، اس لیے اس ایک واقعے کو "غلطی" سمجھ کر آگے بڑھ جانا چاہیے اور اس پر تنقید، شور، یا بحث نہیں کرنی چاہیے گویا 9 سالہ ہانیہ جیسی لاکھوں معصوم جانیں ایسی لاپرواہی، نا اہلی اور غلط فہمیوں پر قربان۔
یہ واقعہ اور ایسا ردعمل کئی طریقوں سے اک سوالیہ نشان ہے۔ کیا کسی ادارے کی ماضی کی کامیابیاں اسے مستقبل کی سنگین غلطیوں کا جواز فراہم کر سکتی ہیں؟
اگر کوئی ادارہ سو مجرم پکڑ لے، لیکن ایک معصوم جان کو غلط شناخت کی بنیاد پر موت کے گھاٹ اتار دے، تو اس ایک جان کی حرمت کم نہیں ہو جاتی۔ انسانی جان کا تصور اعداد و شمار کے تابع نہیں ہوتا۔ ایک معصوم زندگی کا نقصان کسی بھی........
