Kon Hai Jo Aap Ki Khamoshi Samajhta Hai?
کون ہے جو آپ کی خاموشی سمجھتا ہے؟
میں جب بھی والدین کی قبروں پر حاضری دیتا ہوں تو ہمیشہ ان کی فاتحہ خوانی اور دعا کے بعد ان دونوں سے ایک معافی ضرور مانگتا ہوں کہ زندگی بھر میں ان سے جھوٹ بولتا اور دھوکہ دینے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔ مجھے اپنے اس جھوٹ پر آج اس وقت اور بھی شرمندگی ہوتی ہے جب میرئے بچے بھی مجھ سے وہی جھوٹ ویسے ہی بولتے ہیں جو کبھی مجھے بولنا پڑتا تھا یعنی "میں بالکل ٹھیک ہوں" جبکہ میں بطور باپ ان کی آواز سے ان کی پریشانیوں کو محسوس کر لیتا ہوں۔ کل میں بھی نہیں جانتا تھا اور آج وہ نہیں جانتے کہ کوئی ہے جو آپ کے جھوٹ کو سمجھتا ہے؟ کوئی ہے جو آپ کی خاموشی کو سمجھتا ہے؟ کوئی ہے جو آپ کی آواز کا دکھ اور خوشی بھانپ لیتا ہے؟ ہم خوشی اور کامیابی کی خبر دینا تو چاہتے ہیں مگر دکھ اور درد بانٹنا نہیں چاہتے۔ اپنی جانب سے ہم بڑی ہوشیاری سے اپنی شکستوں اور ناکامیوں کو چھپا کر انہیں دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ مگر یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ یہی ماں باپ تو اس وقت بھی ہماری بات سمجھ لیتے تھے جب ہم بول نہیں سکتے تھے؟
کبھی کبھی زندگی کا سب سے بڑا جھوٹ صرف چار لفظوں میں سمٹ آتا ہے "میں بلکل ٹھیک ہوں" یہ وہ جھوٹ ہے جو میں دنیا سے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنے ماں باپ سے بولتا رہا ہوں۔ اس ماں سے جس نے پہلی سسکی سے ہماری تکلیف پہچانی، ہمارئے بخار میں ساری رات جاگ کر گزاری، ہماری خاموشی کے معنی ہماری زبان سے پہلے سمجھے اور ہماری آنکھوں آنے والے آنسوں کو گرنے سے پہلے ہی محسوس کرلیا۔ اس باپ سے جس نے ہمارئے چہرئے اور آنکھوں کو پڑھ کر اپنی زندگی کی ہر خوشی بھی ہم پر وار دی۔ شاید ان چھوٹے بہن بھائیوں سے بھی جو ساتھ پل کر جوان ہوئے۔ مگر سب سے زیادہ یہ جھوٹ ماں باپ سے بولنا پڑتا تھا۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ماں باپ سے بڑا کوئی ایسا شخص نہیں ہوتا جس سے........
