Do Aur Do Chay Kese
دوستوں کے درمیاں بحث یہ تھی کہ دو روپے اور دو روپے کتنے ہوتے ہیں؟ ہمارئے دوست استاد منیر کا فرمان تھا کہ ریاضی کے مطابق دو اور دو چار ہوتے ہیں لیکن اگر وہ آپ کی جیب میں فزیکل موجود نہ ہوں تو دو اور دو صفر ہوتے ہیں۔ جبکہ ہمارئے ایک اور درویش دوست کا خیال ان سے مختلف تھا وہ کہتے تھے کہ دو اور دو چار یا صفر آپ کہ اپنی جیب میں تو ہو سکتے ہیں لیکن یہ پانچ اور چھ بھی ہو سکتے ہیں اگر یہ کسی دوسرئے ضرورت مند کی جیب میں ہوں؟ دو اور دو صفر تو سمجھ میں آتا تھا لیکن یہ پانچ اور چھ ہضم نہیں ہو رہا تھا تو سب کا سوال یہ تھا کہ یہ ریاضی کا اصول کیسے بدل سکتا ہے؟ اور دو اور دو چار کی بجائے چھ کیسے ہو سکتے ہیں؟ مگر ان کا خیال تھا کہ ریاضی کے اصول کاغذوں پر تو شاید درست ہو سکتے ہیں مگر انسانی سوچ اور دل پر ہرگز نہیں۔
آپ کی سوچ یہ ہے کہ اگر آپ کی جیب میں موجود ہوں تو چار اور موجود نہ ہوں تو صفر درست ضرور ہو سکتی ہے لیکن اگر سوچ کسی کی ضرورت اور مدد کی ہے تو کسی دوسرئے کے لیے یہ دو اور دو چار نہیں بلکہ اس کے لیے یہ پانچ، چھ یا دس سے بھی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ تعداد اور مالیت کا تعلق ضرورت سے ہوتا ہے۔ اگر دو اور دو چار کی رقم بلا ضرورت اور........
