Akhir Kyun?
ہمارے معاشرے میں طلاق اب کوئی چونکانے والی خبر نہیں رہی، یہ ایک عام سی ہوتی ہوئی ایسی حقیقت ہے جسے لوگ زبان سے تسلیم نہیں کرتے مگر عمل سے ثابت کر دیتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ اعداد و شمار بےجان ضرور ہوتے ہیں لیکن کچھ اعداد زندہ معاشروں کی اندر کی بےچینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ پاکستان میں طلاق کے بڑھتے ہوئے اعداد و شمار بھی ایسے ہی خاموش مگر بےچینی پیدا کرنے والے نمبرز ہیں۔ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بھی گزشتہ پانچ سالوں میں طلاق اور خلع کی شرح میں تقریباََ پینتیس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
صرف کراچی کی فیملی کوڑٹس میں گذشتہ سال تک گیارہ ہزار سے زیادہ ایسے مقدمات درج ہوئے ہیں۔ جبکہ دو سال قبل یہ تعداد تقریباََ چھ ہزار تھی یعنی دوگنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق گذشتہ سال تک طلاق یافتہ خواتین کی تقریباََ تعداد پانچ لاکھ ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ رجحان صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں بلکہ دوسرے شہروں اور صوبوں میں بھی بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان جیسے اسلامی اور خاندانی معاشرئے میں یہ تعداد حیران کن دکھائی دیتی ہے۔ پاکستان میں طلاقوں کا بڑھنا کسی ایک فریق کی ناکامی نہیں بلکہ ہمارے مجموعی معاشرتی بحران کی علامت ہے۔ کیونکہ جب معاشرہ صبر، برداشت اور ذمہ داری سے خالی ہونے لگے تو رشتے بوجھ بن جاتے ہیں۔ سوال یہ ہےکہ آخر یہ کیوں ہے؟
آج دکھ یہ نہیں کہ یہ رشتے ٹوٹ رہے ہیں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ شاید وہ کبھی صحیح معنوں میں جڑے ہی نہیں تھے؟ ہم نے شادی اور نکاح کو رسومات، توقعات اور انا کا قیدی بنا دیا ہے اور جب یہ قید دم گھونٹنے لگتی ہے تو نتیجہ طلاق ہی نکلتا ہے۔ آج کے پاکستانی گھروں میں طلاق بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ جذباتی ناپختگی ہے، لوگ رشتہ بنانے سے پہلے اپنے مزاج کو نہیں دیکھتے، صرف شادی کی چمک پر فیصلہ کرتے ہیں۔ دونوں فریق یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں سمجھوتہ کرنا آتا ہے مگر چند مہینوں میں ہی واضح ہو جاتا ہے........
