Jadeed Jangen, Chand Aham Sabaq
جدید جنگیں، چند اہم سبق
گزشتہ چند دہائیوں میں ہونے والی جنگوں نے نہ صرف لڑائی کی ہیئت تبدیل کردی ہے بلکہ اس کے مقاصد بھی بدل دیے ہیں۔ میں عسکری ماہر نہیں، البتہ ان امور میں گہری دل چسپی نے چند اہم نکات پیش کرنے کی جسارت پر آمادہ کیا۔
اب کسی مخالف ریاست کی زمین پر مستقل قبضہ جنگ کے مقاصد میں شامل نہیں رہا۔ استثنیات تو بہرحال ہر جگہ موجود ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں تواتر سے کہا جاتا ہے کہ اکھنڈ بھارت کا قیام ہندوستان کا خواب اور حتمی مقصد ہے۔ 1971ء کی جنگ کے بعد موقع تھا کہ بھارت بنگلا دیش کو الحاق پر آمادہ کرکے کچھ حد تک اس مقصد کو پورا کرلیتا۔ بھارت کی مدد کے بغیر بنگلا دیش کا قیام ممکن نہیں تھا۔ البتہ تب ایسا نہ کیا گیا، یہ قطعی طور پر علیحدہ معاملہ ہے کہ اسے طفیلی ریاست (جیسا کہ نیپال ہے) بنانے کی سعئی ناکام کی گئی۔ اس کے علاوہ افغانستان میں رواں صدی میں امریکا کی جنگی مہم جوئی بھی ادھر کی حکومت کو تبدیل کرنے تک محدود تھی، مکمل قبضے کا اس میں امکان نہ تھا۔ ایسا ہی دیگر جنگوں میں سامنے آیا۔ یہ معاملہ بیسویں صدی کے اوائل تک محدود رہا جب سوویت یونین نے وسط ایشیائی اور بالٹک ریاستوں کو اپنے اندر ضم کرلیا۔ لیکن اس انضمام میں بھی ایسی فالٹ لائنز تھیں کہ جب روسی ایمپائر کا انہدام ہوا تو وہی ریاستیں اُن ہی لائنز اوراصل بنیادوں پر قائم ہوئیں۔
حالیہ........
