menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gilgit: Siasi Hangama Arai Aur Bunyadi Masail Ke Almiya

13 0
latest

گلگت: سیاسی ہنگامہ آرائی اور بنیادی مسائل کا المیہ

گلگت، جو انتظامی لحاظ سے گلگت بلتستان کا مرکزی شہر ہے، ایک بار پھر انتخابی سرگرمیوں کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔ جون میں متوقع انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی درجہ حرارت عروج پر ہے۔ شہر کی شاہراہیں بینرز، پوسٹرز اور پارٹی پرچموں سے سجی ہوئی ہیں، جبکہ جلسے، جلوس اور ریلیاں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں۔ بظاہر جمہوری سرگرمیوں کا یہ منظر خوش آئند معلوم ہوتا ہے، مگر اس چمک دمک کے پیچھے چھپی تلخ حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ گلگت آج بھی بنیادی شہری سہولیات سے محروم ایک شہر کی تصویر پیش کرتا ہے۔ سڑکوں کی حالت ابتر ہے، معمولی بارش بھی نظامِ نکاسی آب کی ناکامی کو بے نقاب کر دیتی ہے اور شہر کی گلیاں تالاب میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی ایک سنگین مسئلہ ہے، جس کے خلاف خواتین اور بچے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ طویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کی زندگی کو شدید متاثر کر رکھا ہے، جہاں بجلی کی غیر موجودگی روزمرہ معمولات کو مفلوج کر دیتی ہے۔

ایسے حالات میں سب سے اہم سوال عوام کے رویے سے متعلق ہے۔ جمہوریت کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ عوام اپنے نمائندوں سے کارکردگی کا حساب لیں، مسائل کے حل کا مطالبہ کریں اور اپنی رائے کو باشعور طریقے سے استعمال کریں۔ مگر افسوسناک امر یہ ہے کہ عملی طور پر اس کے برعکس منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد انہی سیاسی اجتماعات میں شریک ہو کر نعرے بازی میں مصروف ہے، جہاں مسائل کے حل کے بجائے محض وعدوں اور دعووں کی تکرار سننے کو ملتی ہے۔

یہ طرزِ عمل نہ صرف جمہوری شعور کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ مستقبل کے لیے بھی خطرے کی علامت ہے۔ جب ووٹر اپنے بنیادی حقوق کے لیے سوال اٹھانے کے بجائے وقتی جذبات کا شکار ہو جائے تو سیاسی قیادت پر جوابدہی کا دباؤ ختم ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً مسائل جوں کے توں رہتے ہیں اور ہر انتخابی دور میں وہی وعدے نئے انداز میں دہرائے جاتے ہیں۔

آنے والے انتخابات گلگت کے عوام کے لیے ایک اہم موقع ہیں۔ یہ وقت محض سیاسی وابستگیوں کے اظہار کا نہیں بلکہ سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ ووٹرز کو چاہیے کہ وہ نعروں سے ہٹ کر کارکردگی، پالیسیوں اور عملی اقدامات کو مدنظر رکھیں۔ یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ ماضی کی روایت کو دہراتے رہیں گے یا ایک باشعور معاشرے کی بنیاد رکھیں گے۔

گلگت کا اصل مسئلہ سیاسی سرگرمیوں کی کمی نہیں بلکہ ترجیحات کا فقدان ہے۔ جب تک عوام اپنے مسائل کو اولین حیثیت نہیں دیں گے اور نمائندوں سے ٹھوس جواب طلب نہیں کریں گے، اس وقت تک ترقی کا خواب محض ایک نعرہ ہی رہے گا۔

جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے حق کے لیے کھڑے ہونے کا عمل ہے۔ اگر گلگت کے عوام نے اس حقیقت کو سمجھ لیا تو شاید آنے والا وقت اس شہر کے لیے ایک نئی سمت متعین کر سکے۔


© Daily Urdu (Blogs)