menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aik Hoon Muslim Haram Ki Pasbani Ke Liye

39 0
12.08.2026

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاکِ کاشغر

مکہ مکرمہ میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے حالیہ مشترکہ دفاعی معاہدے نے مسلم دنیا کے سیاسی، دفاعی اور تزویراتی منظرنامے میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ یہ معاہدہ صرف تین ممالک کا دفاعی بندوبست ہے یا "مسلم نیٹو" کی ابتدا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا عالمِ اسلام اپنی اجتماعی سلامتی کے لیے ایک ایسا مضبوط، متوازن اور باوقار نظام تشکیل دے سکتا ہے جس میں کسی بیرونی طاقت کی چھتری کے بجائے باہمی اعتماد، مشترکہ مفادات اور مسلم ممالک کی اپنی دفاعی صلاحیت بنیادی کردار ادا کرے؟

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تین مختلف جغرافیائی خطوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پاکستان جنوبی ایشیا کا ایک اہم دفاعی ملک اور ایٹمی طاقت ہے، سعودی عرب عرب دنیا اور خلیج میں ایک مرکزی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ ترکیہ یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے سنگم پر واقع ایک طاقتور مسلم ملک ہے۔ تینوں ممالک کی اپنی اپنی اہمیت ہے، لیکن جب یہ اہمیت ایک مشترکہ دفاعی تصور میں جمع ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف تین دارالحکومتوں تک محدود نہیں رہتے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ستمبر 2025 میں "اسٹریٹجک میوچل ڈیفنس ایگریمنٹ" پہلے ہی طے ہو چکا تھا، جس کے تحت ایک ملک پر جارحیت کو دونوں کے خلاف جارحیت تصور کرنے کا اصول سامنے آیا تھا۔ اب ترکیہ کی شمولیت نے اس تعاون کو ایک وسیع تر علاقائی شکل دے دی ہے۔ ترکیہ اور پاکستان پہلے ہی دفاعی صنعت، مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی، تربیت اور سکیورٹی تعاون میں ایک دوسرے کے قریب ہیں۔

یہاں علامہ اقبال کا تصورِ ملت یاد آتا ہے۔ اقبال نے........

© Daily Urdu (Blogs)