Surat Pe Reejh Jaane Walay Post Parast
صورت پہ ریجھ جانے والے پوست پرست
دور نزدیک کے دوست دشمن جانتے ہیں کہ میں بلا کا حسن پرست ہوں۔ صورت واجبی بھی ہو تو اُس میں کوئی ریجھ ایبل پہلو ڈھونڈ کے دوارے ہو جاتا ہوں۔ یہ ہمارا غالبًا خاندانی مرض ہے۔ چچا مرحوم کا یہ واقعہ ہم سب کزنوں کو ازبر ہے کہ اُنھیں ایم اے کی تعلیم کے دوران میں، حسبِ دستورِ زمانہ، کوئی لڑکی پسند آ گئی۔ میرے ابا پروفیسر عابد صدیق نے اُنھیں چنتاتے کُرلاتے پایا تو دریافت کیا کہ موصوفہ کا کیا گُن دیکھ کر ریجھے؟ کافی سوچنے کے بعد چچا گویا ہوئے: بھائی جان، اُس کی آنکھیں بہت بڑی بڑی ہیں۔ ابا جان نے ترنت جواب دیا: پھر اُس کی آنکھوں میں کود جا۔ یہ مکالمہ پنجابی میں ہوا تھا اور درست مزہ پنجابی ہی میں دیتا ہے۔ یہاں وہ گوڑھی پنجابی لکھ دوں تو سمجھنے والے خال ہی خال ہوں گے۔
روسوئے جدید کے اِن اعترافات کا شانِ نزول یہ ہے کہ چند دن پہلے ایک کتاب کی صورت پہ ریجھ گیا۔ مشفق خواجہ نے کہا تھا کہ پینے کی چیزوں میں صرف چائے پیتا ہوں۔ مجھے بھی مونث چیزوں میں صرف کتاب ملتی ہے۔ سو کتاب مل گئی۔........
