Mashriq e Wusta: Hazeemat e Bahmi Ka Tazvirati Manzar Nama
مشرقِ وسطیٰ: ہزیمتِ باہمی کا تزویراتی منظرنامہ
مشرقِ وسطیٰ کے معرکۂ خونیں میں اگرچہ کسی سرِ پُرغرور کو خمیدگیِ تسلیم کا تجربہ نہ ہوا، تاہم شکستِ فاش کا مکتوبِ عبرت ہر دہلیز پر جلی حروف میں رقم ہو چکا ہے۔ عصرِ حاضر کے افقِ سٹرٹیجک پر معرکۂ ایران کے جو ہولناک نقوش ابھرے ہیں، انہوں نے فکری اور تجزیاتی حلقوں کو یہ اعتراف کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ یہ کارزارِ ہستی روایتی عسکری فتوحات کا مظہر نہیں، بلکہ ایک ایسا نوحۂ خسارِ باہمی ہے جس میں کوئی بھی فریق سرخروئی کا تاج پہن کر نہ نکل سکا۔
امریکی جریدے "فارن پالیسی" کا تازہ ترین قرطاسِ تجزیہ اسی تلخ حقیقت کا غماز ہے کہ بارود کی ہولناک بو میں لپٹے اس منظرنامے میں فاتح کی جستجو اک کارِ لاحاصل ہے، یہاں ہزیمت سب کا مقدر ٹھہری اور ہر ایک کا دامن سیاسی و معاشی رسوائی کے داغوں سے ملوث ہے۔ یہ جنگ میدانِ کارزار کی حد تک اگرچہ تکنیکی و ٹیکٹیکل تفوق کے چند عارضی مظاہر سامنے لائی، لیکن سیاسی دور اندیشی اور پائیدار ثبات کے تناظر میں یہ تزویراتی ناعاقبت اندیشی کا ایک ہولناک اور عبرت ناک شاہکار ثابت ہوئی۔
معاملے کا سب سے دقیق اور عبرت خیز پہلو واشنگٹن اور تل ابیب کی وہ موہوم عسکری کامیابیاں ہیں جو اپنے بطن سے ایک گہرے اور لاینحل سیاسی بحران کو جنم دے چکی ہیں۔ دونوں قوتوں نے اپنے تکنیکی اعجاز اور مہیب اسلحے کے بل بوتے پر........
