menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Roshani, Yaadasht Aur Lahore Ki Basri Tareekh

30 0
29.06.2026

روشنی، یادداشت اور لاہور کی بصری تاریخ

دیکھنا انسان کو عطا کی جانے والی اہم ترین نعمتوں میں سے ایک ہے، جس کے ذریعے وہ اپنے ماحول، ثقافت اور تاریخ کا ادراک کرتا ہے۔ قدیم مشرقی روایات میں "تیسری آنکھ" کو بصیرت، شعور اور گہری فہم کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ مایہ ناز محقق، پروفیسر ڈاکٹر کنول خالد کے مطابق کیمرے کا لینز بھی ایک ایسی آنکھ ہے جو لمحوں، مناظر اور یادوں کو محفوظ کرکے انسان کو اپنے گرد و پیش کی دنیا کے پوشیدہ پہلوؤں سے آشنا کرتی ہے۔ اس طرح فوٹوگرافی محض تصویری دستاویز تک محدود نہیں رہتی بلکہ تاریخ، یادداشت اور انسانی تجربات کو سمجھنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن جاتی ہے۔

ڈاکٹر کنول خالد اور خالد نواز کی کتاب "Between Light and Memory: The Glass Plate Negatives of Lahore" لاہور کی بصری تاریخ، ثقافتی ورثے اور شہری ارتقا کو سمجھنے کے لیے ایک اہم علمی کاوش ہے۔ نایاب شیشی پلیٹ نیگیٹوز (Glass Plate Negatives) کے ذریعے مصنفین نے ان تاریخی عمارتوں، بازاروں اور شہری مناظر کو محفوظ کیا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ یا تو معدوم ہو چکے ہیں یا اپنی اصل صورت کھو چکے ہیں۔ اس اعتبار سے یہ کتاب محققین، مؤرخین اور فنونِ لطیفہ کے طلبہ کے لیے ایک اہم ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے، جو لاہور کے گم ہوتے ہوئے آثار، تعمیراتی ورثے اور بصری تاریخ کے مطالعے کے لیے منفرد مواد فراہم کرتی ہے۔

کنول خالد کہتی ہیں کہ ہم جیسے لوگ خواب دیکھنے والے ہوتے ہیں، جو ہمیشہ اپنی دلی خواہشات کے تعاقب میں رہتے ہیں۔ میرے اور میرے شوہر خالد کے لیے یہ خواب ہمیشہ اس بات سے وابستہ رہا ہے کہ ہم ماضی سے حاصل ہونے والی دستاویزات، نوادرات، تصاویر، علم اور یادداشتوں کو دوسروں کے ساتھ بانٹ سکیں۔ ہمارا سفر تحقیق، جستجو اور مہم جوئی پر مبنی رہا ہے۔ ہمارے نزدیک تاریخ صرف ماضی نہیں بلکہ زندگی کو سمجھنے کا ایک طریقہ ہے، جو ہمیں آج کے حالات کی منطق سمجھنے میں مدد دیتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ دنیا میں پیش آنے والی ہر چیز کی جڑیں ماضی میں موجود ہوتی ہیں۔

گزرے ہوئے زمانوں کی تلاش میں ہمیں بے شمار معلومات اور شواہد ملے۔ انہی میں ایک حیرت انگیز دریافت شیشی پلیٹ........

© Daily Urdu (Blogs)