menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Awaz Se Safar Masood Lillah Tak

16 0
wednesday

آواز سے سفرِ مسعود للہ تک

جون اور جولائی کی سخت گرمی اور پنجاب ایمرجنسی سروسز اکیڈمی کی کٹھن تربیت کا آپس میں گویا سخت بیر ہے، مگر ہمارا دونوں کے ساتھ نبھا ضروری ہے۔ ایک مشہور کہاوت ہے:

"Sweat saves blood، and blood saves lives. "

یعنی اگر انسان وقت پر محنت کا پسینہ بہائے تو ضرورت پڑنے پر یہی پسینہ انسانی جانیں بچانے میں معاون بنتا ہے۔ چونکہ ہم نے انسانی خدمت کا عہد کر رکھا ہے، اس لیے اس اصول پر دل و جان سے عمل پیرا ہیں۔ صبحِ صادق سے لے کر شام ڈھلے تک کبھی کنوؤں کی گہرائیوں میں، کبھی فائر ٹاور کی بلندیوں پر، کبھی پانی کی وسعتوں میں اور کبھی ملبے کے نیچے، پسینہ خشک ہونے کا نام نہیں لیتا۔ جسمانی مشقیں، ڈرل اور دیگر تربیتی سرگرمیاں اس کے علاوہ ہیں۔

ایسے سخت جان ماحول میں غیر نصابی مطالعے کے لیے وقت نکالنا بھی ایک چیلنج سے کم نہیں اور شاید یہی وجہ تھی کہ تقریباً ایک ماہ قبل موصول ہونے والی کتاب "سفرِ مسعود للہ" کو پڑھنے اور اس پر اظہارِ خیال کرنے میں تاخیر ہوئی۔

میں خود کو کوئی بڑا قاری نہیں سمجھتا، البتہ علم سے محبت ضرور رکھتا ہوں اور اس بات کا قائل ہوں کہ جہاں سے کوئی اچھی بات یا نصیحت ملے، اسے پلو سے باندھ لینا چاہیے۔ چند برس قبل میرے والدِ محترم اور بڑے بھائی نے مجھے مصنف کی ایک اور تصنیف "آوازِ مسعود للہ" پڑھنے کا کہا۔ حکم کی تعمیل میں جب اس........

© Daily Urdu (Blogs)