Nihari Ka Dulha, Sada Ka Bhooka, Sada Ka Chatora
نہاری کا دولھا، صدا کا بھوکا، سدا کا چٹورا
شادی اور نہاری کا ویسے ٹو آپس میں کوئی کوئی تال میل نہیں۔ کورٹ میں نکاح اور گھر میں ھوٹل کی نہاری کھانا گناہ سا لگتا ہے۔ شادی اور نہاری دونوں میلہ ٹھیلا مانگتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے دونوں میں مزا بہت آتا ہے لیکن پھر مرچیں بھی خوب لگتی ہیں۔
میں نہاری کو کھانوں کی دلھن کہتا ہوں سو بھوکا دولھا بن کر ھوٹل جاتا ہوں۔ شادی ہال کی سی رونق ہوتی ہے۔ ہر ٹیبل پر دلھن دیکھتا ہوں تو لگتا ہے اجتماعی شادی کی تقریب ہو رہی ہے۔ نہاری کی دیگ پر نظر ماروں تو وہاں نہاری اپنی بہن نلی اور بھائی مغز کے ساتھ آمادہ ملن ہوتی ہے۔ ٹیبل پر پہنچوں تو پچھلے دولھا کی باقیات نظر آتی ہیں۔ سہرے کے پھولوں کی جگہ یری مرچیں، ہرا دھنیا اور ادرک اجڑے پڑے ہوتے ہیں ساتھ کولڈ ڈرنکس کی خالی بوتلیں اپنے لٹنے کی بپتا سنا رہی ہوتی ہیں۔
میں جا کر ٹیبل پر قبضہ کرکے کرسی نشین ہوتا ہوں تو کاندھے پر کپڑا ڈالے دلھن کے کئی رشتے داروں (ویٹرز) کو ادھر سے ادھر جاتا دیکھتا ہوں اور ان میں سے کسی ایک کی "صدا کا بھوکا" ہو جاتا ہوں کہ کب وہ میرے پاس آئے اور کہے: ہاں صاحب بولو،........
