Jameela Dhoban Aur Rafeeqal
جمیلہ دھوبن اور رفیقل
جمعے کا دن آتا تو کوئی تین ایک بجے سہ پہر دبلی پتلی بقول والدہ دھان پان جمیلہ دھوبن آ جاتی۔ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا جمیلہ اماں کو جمعہ کے جمعہ آتے دیکھا۔ رنگ دیتا ہوا۔ ہڈیوں کی مالا لیکن لہجے میں ایک عجب اپنائیت تھی۔ گدھے گاڑی پر اپنے شوہر رفیقل کے ساتھ آتی۔ گدھا گاڑی گلی میں رکتی اور رفیقل ہر گیٹ زور زور سے پیٹ کر کپڑے کی آواز لگاتا۔ کبھی موڈ میں ہوتا تو ساتھ ساتھ ایک مشہور پرانے گانے کی صرف ایک لائن گنگنا بھی لیتا: چلو دلدار چلو چاند کے پار چلو۔ لہجہ ضرور کھردرا تھا لیکن گاتا تو کانوں کو بھلا لگتا۔
ادھر رفیقل آواز لگی اور ادھر والدہ نے اپنی اکلوتی ڈائری کی تلاش کا کام شروع کر دی: ارے کہاں گئی وہ کم بخت ماری۔ ویسے تو ہر وقت نظر آتی۔ اب جانے کہاں چھپ کر بیٹھ گئی۔
والدہ ایک ایک سے پوچھتیں: تم نے دھوبی کی ڈائری تو نہیں دیکھی۔ بالآخر ڈائری مل جاتی۔ ڈائری کیا تھی بائنڈنگ سے نکلے کاغذوں جنہیں ٹوڑ مروڑ کر گھسیڑا گیا ہوتا۔ ڈائری کے ساتھ بلیڈ سے کٹی چھوٹی سی پینسل جس کے ربر والے سرے کا بھائی نے چوس چوس کر بھرکس نکال دیا ہوتا۔ اب والدہ جمیلہ اماں کے انتظار میں میلے کپڑوں کے ساتھ انتظار میں بیٹھی ہیں اور جمیلہ کا دور دور تک پتہ نہیں۔ والدہ ہم بھائیوں کو گلی میں دوڑاتیں:
ذرا پتہ تو کرکے وہ چلی تو نہیں گئی۔ گلی میں ایک فاقہ زدہ گدھے کے ساتھ بندھی گاڑی مسٹر اینڈ مسز دھوبی کی موجودگی کی ڈھینچوں ڈھینچوں کرتی زندہ دلیل ہوتی۔
خیر سے پوری گلی کو نمٹا کر جمیلہ ہمارے ہاں آتیں تو والدہ برس پڑتیں: تجھے کیا ہم شکل سے پاگل نظر آتے ہیں۔ رفیقل نے آواز دی اور پھر وہ پھر ہوگیا۔
یہ ہر ہفتے کی کہانی تھی۔ جمیلہ اماں نے بھلا کیا برا ماننا تھا، الٹا فرمائش ہی کر دیتی: جرا ایک کٹورا پنیا (پانی) تو پلا دو۔ قسم سے جوروں کی پیاس ہے۔ والدہ پانی لانے کے........
