Azeeza Khala
کچھ لوگ عمر کے ہر حصے میں ہر ایک کے لیے سراپا عجز و انکسار ہوتے ہیں جو بھی ملتا ہے، خوش ہوتا ہے اور دوبارہ ملنے کی آرزو کرتا ہے۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم بہت چھوٹے تھے۔ عزیزہ خالہ مہینے میں ایک یا دو بار ہمارے ہاں آ جایا کرتیں۔ خالہ عزیزہ ہماری دادی اماں کی قریبی رشتےدار تھیں۔ عمر میں دادی اماں سے کہیں چھوٹی تھیں لیکن حالات کے جبر نے چہرے کی جھریوں سے بڑی عمر لکھ دی تھی۔ سامنے کے ایک دو دانت بھی ٹوٹ گئے تھے جس کے سبب چہرے پر پویلا پن آ گیا تھا۔
عزیزہ خالہ کالا برقع اوڑھا کرتی تھیں۔ قامت درمیانی اور رنگ گندمی تھا۔ بات چیت میں ایک عجیب لہک اور اپنائیت تھی۔ الفاظ کا چناو اور لہجے کا رچاؤ ایسا کہ آپ خود کو اپنے آبائی قصبے میں محسوس کریں۔ دادی اماں سے ان کو خاص انسیت تھی۔ وہ وہ قصے لے بیٹھتں اور وہ وہ نام لیتیں کہ ہم کچھ نہ سمجھ پاتے۔ دادی اماں کا گھر میں بڑا........
