Waldain Aur Unki Qurbaniyan
والدین اور ان کی قربانیاں
قدرت نے ہمیں بہت سارے خوبصورت رشتوں سے نوازا ہے جن میں کچھ رشتے انمول ہوتے ہیں جیسا کے والدین جن کا اس دنیا میں کوئی مول نہیں، کوئی مقابلہ کوئی موازنہ نہیں ہے اور نہ ہی ان کی اہمیت و حیثیت کو لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ ان کی قربانیوں کو کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ والدین بچوں کی پرورش کے دوران کن مراحل سے گزرتے ہیں یہ ہمیں اس وقت زیادہ احساس ہوتا ہے جب ہم خود اس منصب پر فائز ہوتے ہیں۔
جب کوئی بھی چاہے لڑکا ہو یا لڑکی ماں، باپ بنتے ہیں تو ایک دم سے ان میں بہت ساری جزباتی اور جسمانی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ جو خود ابھی نوجوان، لاابالی طبیعت کے حامل اور خوابوں سے بھرپور ہوتے ہیں، اچانک اپنی اولاد کے آنے کی خبر سنتے ہی ذمہ دار ہو جاتے ہیں۔
ان کی سوچ ہی بدل جاتی ہے، چیزوں کو دیکھنے کا زاویہ تک تبدیل ہو جاتا ہے۔ ان کی خواہشات اور خوابوں کا محور اب صرف اور صرف ان کی اولاد ہوتی ہے۔
ماں، باپ کی قربانیوں کا اندازہ لگانا ممکن ہی نہیں ہے اور نہ ہی ان کا احسان اتارا جا سکتا ہے۔ دنیا میں سب سے مخلص رشتہ والدین کا ہی ہوتا ہے جو خود چاہے کامیاب نہ ہوں لیکن اپنی اولاد کو خود سے زیادہ کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اپنی تمام عمر اور وسائل بچوں کے بہتر مستقبل اور پرورش میں لگا دیتے ہیں۔
ماں، باپ کی خدمات، پیار، ایثار و قربانی کو سرہانے کے لیے کسی ایک مخصوص دن کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ان کے بغیر تو کوئی دن، دن نہیں ہوتا، کسی خوشی یا کامیابی میں وہ دم خم نہیں رہتا۔ ان کے بغیر نہ صرف گھر بلکہ زندگی تک ویران ہو جاتی ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ آج کل کے بچے باپ کو صرف اے ٹی ایم مشین ہی سمجھتے ہیں۔ ان کو اس بات کا احساس........
