Shumali Ilaqa Jaat Ke Haseen Nazare
شمالی علاقہ جات کے حسین نظارے
ستمبر کے مہینے میں شمالی علاقہ جات سیر و تفریح کے لیے جانے کا یہ میرا پہلا موقع تھا جو کہ بہت اچھا اور یاد گار رہا۔ عام طور پر موسمِ گرما کی تعطیلات میں وہاں جانا ہوتا ہے۔ اُن دنوں میں بہت سارے لوگ جو میدانی علاقوں کی جھلسا دینے والی گرمی سے ستائے ہوتے ہیں اور بچوں کو چھٹیوں میں گھمانے یا سیروتفریح کی غرض سے اِن علاقوں کا رخ کرتے ہیں جس کی وجہ سے ہوٹلوں میں کمروں کے نرخ بھی آسمان سے باتیں کرنے لگتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اب گلوبل وارمنگ کی وجہ سے شمالی علاقوں میں بھی موسم گرم ہوتا ہے۔
جب رش بڑھ جاتا ہے تو ہر جانب لوگ ہی لوگ نظر آتے ہیں جس سے نہ صرف اِن علاقوں کی قدرتی خوبصورتی ماند پڑ جاتی ہے بلکہ سکون سے بیٹھنے اور روح پرور نظاروں کو محسوس کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ شہر کی بھاگ دوڑ سے کچھ دن نکال کر جب ان علاقوں کی طرف جاتے ہیں تو دل میں یہی خیال ہوتا ہے کہ قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوں گے، دل کو سکون ملے گا اور روح تروتازہ ہوگی۔
ستمبر میں جانے کا یہ فائدہ ہوا کہ ہمیں ہر طرف سکون و خاموشی ملی جس نے اس سفر کی ساری تھکن اتار دی۔ ناران سے بٹہ کنڈی تک بے شمار ہوٹل اور ریسٹورانٹ بن گئے ہیں اور مزید تعمیری منصوبوں پر کام بھی ہو رہا ہے۔ چاروں طرف بلند و بالا عمارتیں ہی عمارتیں نظر آتی ہیں جس سے قدرتی حسن دھندلا گیا ہے۔ ہم چونکہ دو دہایوں سے شمالی علاقہ جات جا رہے ہیں تو یہ حالات دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ کیسے ناران اور بٹہ کنڈی کی خوبصورتی کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ اب اگر ہنزہ جانے کے لیے ایک رات رکنے کی مجبوری نہ ہو تو کبھی بھی ناران یا بٹہ کنڈی میں نہ رکا جائے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ عمارتیں تو بنا لی گئی ہیں لیکن ان کی صفائی اور سہولیات کا خیال نہیں کیا گیا۔ مقامی لوگ، دکان دار وغیرہ بھی صفائی کا خیال نہیں کرتے، جگہ جگہ کوڑا اور پانی کھڑا ہوتا ہے جس کی وجہ سے........
