menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

The Great, Nosy Haider

11 0
latest

جب صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے نومبر 1979 میں جی ایچ کیو کے ایک نہایت خفیہ اجلاس میں اپنی طویل فوجی حکمرانی کا خاکہ پیش کیا تو ڈائریکٹر جوائنٹ وارفیئر، ایئر کموڈور سجاد حیدر کے دل میں بغاوت کی ایک چنگاری سلگ اٹھی۔ وہ کچھ عرصے سے ملک کے مجموعی حالات کے بارے میں گہری تشویش اپنے اندر دبائے ہوئے تھے۔

جب ضیاء الحق اپنے اختتامی کلمات کے بعد نشست پر بیٹھے تو حیدر کھڑے ہو گئے۔ اسی لمحے لیفٹیننٹ جنرل ایف۔ ایس۔ لودھی نے ان کی پتلون کو ہلکا سا کھینچ کر اشارہ کیا کہ خاموش رہیں۔ حیدر اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ تھے کہ اختلافِ رائے کا اظہار سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے، مگر انہوں نے حوصلہ مجتمع کیا، کھڑے ہوئے اور براہِ راست صدر سے مخاطب ہو گئے۔

جنرل ضیاء، اس مداخلت پر ناگواری محسوس کرتے ہوئے، انہیں مختصر طور پر بات کرنے کی اجازت دی۔

اجلاس میں موجود تمام افراد کے سامنے حیدر نے کہا: "جنابِ صدر! پاکستانی اس وقت مسلسل ایک انجانے خوف اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کے دہشت زدہ ماحول میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ ایجنسیاں کبھی سچ نہیں بولتیں، کیونکہ سچ کہنا ان کی فطرت میں شامل ہی نہیں اور نہ ہی یہ آپ کو قوم کے دل و دماغ کی اصل کیفیت سے آگاہ کر رہی ہیں۔ کیا یہ دل پاکستان کے لیے دھڑک رہے ہیں یا اس خوف سے کہ کہیں انہیں سرِعام کوڑے نہ مارے جائیں یا محض اختلاف کے شبہے میں گندے حوالات میں مجرموں کے ساتھ نہ ڈال دیا جائے؟

یہی ایجنسیاں ہر حکومت کے زوال کی بنیادیں رکھتی آئی ہیں، تو پھر کیا چیز انہیں آپ کی حکومت کے خلاف ایسا کرنے سے روک سکتی ہے؟

جناب! ہوائی اڈے سے ایوانِ صدر تک جانے والی شاہراہ پاکستان کی روح کی عکاس نہیں۔ پاکستان کی اصل روح تو ان تاریک، شکستہ اور پسماندہ گلیوں میں سانس لیتی ہے جہاں محرومی بسی ہوئی ہے۔ مگر یہ ایجنسیاں کبھی آپ کو وہاں جھانکنے کا مشورہ نہیں دیں گی تاکہ آپ قوم کی حقیقی حالت دیکھ سکیں۔ صحافت گھٹن کا شکار ہے اور لوگ اپنے دل کی اذیت بیان کرنے سے خوف زدہ ہیں۔

میں نے یہ وردی ہمیشہ فخر سے پہنی ہے اور کبھی اپنے وطن کے دفاع کے لیے جان قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ لیکن افسوس، آج وہ فخر باقی نہیں رہا جو ایک دہائی قبل تھا، جب لوگ ہمیں دیکھ کر محبت سے ہمارے ہاتھ چوم لیا کرتے تھے۔ آج صورتِ حال بدل چکی ہے۔ عوام کے دلوں میں ہمارے اور ہماری وردی کے لیے نفرت پیدا ہوگئی ہے۔ چونکہ اس تبدیلی میں میرا بھی کسی حد تک حصہ ہے، اس لیے اب یہ وردی پہن کر مجھے فخر محسوس نہیں ہوتا۔

جنابِ صدر! میں اسلام آباد میں رہتا ہوں اور روزانہ جی ایچ کیو سے واپسی پر میرا راستہ کور کمانڈر کے قافلے سے ٹکرا جاتا ہے۔ مگر ایک واضح فرق ہے۔ وہ بہادر افراد، جو خدا کے نام پر اس قوم، اس کی املاک اور اس کی سرحدوں کے محافظ ہیں، موٹر سائیکلوں پر سوار اسکواڈ کے ساتھ سفر کرتے ہیں، سرخ بتیوں کی چمک اور سائرن کی چیخ و پکار ان کی آمد کی خبر دیتی ہے۔ اسی دوران، عام شہریوں کو، چاہے وہ پیدل ہوں یا سواریوں میں، ٹی جنکشن پر سڑک سے ہٹا دیا جاتا ہے تاکہ ان محافظوں کے لیے راستہ صاف کیا جا سکے۔

یہ وہ طرزِ عمل نہیں جو محافظوں کو اپنی ہی قوم کے ساتھ اختیار کرنا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ ہم اس غصے اور نفرت کو محسوس کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں جو عام شہری اس جبر کے خلاف اپنے دلوں میں رکھتے ہیں"۔ ؎

لبوں پہ مہر سہی، دل میں تو طوفان رہے یہ اور بات کہ اظہار کی ہمت نہ رہے

اس واقعے کے بعد کئی فوجی ساتھی حیدر سے ملنے آئے اور انہیں آنے والی مشکلات اور تاریک مستقبل سے خبردار کیا۔ ملازمت کے دوران انہیں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز میں ایک عہدہ سنبھالنے کا موقع ملا، مگر وہ لکھتے ہیں کہ ضیاء سے اس ٹکراؤ کے بعد وہ موقع "تاریخ کا حصہ" بن گیا۔

چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل میاں افضل نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حیدر نے فضائیہ میں ایک شاندار کیریئر کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ بعد ازاں اسلام آباد کلب میں ایئر چیف مارشل انور شمیم سے ملاقات کے دوران، حیدر نے پی اے ایف بیس مسرور کی کمان سنبھالنے کی پیشکش بھی ٹھکرا دی، کیونکہ وہ ضیاء الحق سے براہِ راست ٹکر لینے کے بعد خود کو اس منصب کے لیے موزوں نہیں سمجھتے تھے۔

انہوں نے لکھا کہ انہیں اپنی صلاحیتوں پر بھروسہ ہے کہ وہ غیر یقینی حالات میں بھی راستہ نکال لیں گے اور ان کا اصل سہارا تقدیر اور اللہ پر ایمان ہے۔ انور شمیم نے بھی ان کی ثابت قدمی کو تسلیم کیا اور کہا کہ ان کے سامنے یا تو بلندیوں کی راہ ہے یا ایک باوقار رخصتی۔

یوں حیدر نے مئی 1980 میں پاک فضائیہ کو خیرباد کہہ دیا۔

بعد ازاں انہوں نے لکھا کہ انہیں اپنے فیصلے پر کوئی ندامت نہیں۔ وہ نئی نسل کے لیے جگہ چھوڑنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد ملنے والی مراعات بھی شکرگزاری کے ساتھ مسترد کر دیں اور محض سترہ ہزار روپے اور 1970 ماڈل کی ایک بائیں ہاتھ سے چلنے والی ٹویوٹا گاڑی کے ساتھ ایک نئی زندگی کا آغاز کیا۔ ؎

سرِ تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے نہ ہم بدلیں گے خود کو، نہ زمانہ ہمیں بدلے گا

اور حیدر کی اس بات کو فیض نے کہا تو یوں کہا:

جگر دریدہ ہوں چاکِ جگر کی بات سنو الم رسیدہ ہوں دامانِ تر کی بات سنو

زباں بریدہ ہوں زخمِ گلو سے حرف کرو شکستہ پا ہوں ملالِ سفر کی بات سنو

مسافرِ رہِ صحرائے ظلمتِ شب سے اب التفاتِ نگارِ سحر کی بات سنو

سحر کی بات، امیدِ سحر کی بات سنو


© Daily Urdu (Blogs)