menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Deedar Ki Saat

25 0
previous day

کبھی کبھی انسان کی پوری زندگی ایک ہی آرزو کے گرد گھومتی ہے، اگرچہ اسے خود بھی اس کا پورا شعور نہیں ہوتا۔ وہ رزق مانگتا ہے، صحت مانگتا ہے، عزت مانگتا ہے، اولاد مانگتا ہے، کامیابی مانگتا ہے، سکون مانگتا ہے، مگر حقیقت میں وہ ان سب کے ذریعے ایک ایسی دائمی راحت کی تلاش میں ہوتا ہے جو کبھی ختم نہ ہو۔ دنیا کی ہر نعمت وقتی ہے، ہر خوشی عارضی ہے، ہر ملاقات مختصر ہے اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے جدائی کا امکان موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی کامیابی بھی انسان کے دل کی گہرائیوں میں موجود ایک خلا کو مکمل طور پر پُر نہیں کر سکتی۔ اسلام اسی خلا کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ بندۂ مؤمن کی سب سے بڑی منزل نہ محلات ہیں، نہ باغات، نہ نہریں، نہ دودھ اور شہد کی روانی، نہ سونے اور چاندی کے محل، بلکہ اس کی سب سے بڑی سعادت وہ لمحہ ہے جب پردے اٹھ جائیں گے اور اہلِ جنت اپنے رب کریم کا دیدار کریں گے۔ یہی وہ انعام ہے جس کے مقابلے میں جنت کی ساری نعمتیں بھی ثانوی محسوس ہونے لگتی ہیں۔ عرب دنیا کے معروف ادیب ادھم شرقاوی نے ایک مختصر مگر دل میں اتر جانے والا جملہ لکھا کہ "جنت میں تم اللہ کو دیکھو گے، اسی کو جس نے تمہاری تنہائی میں تمہارے دل کو تسلی دی، تمہارے دکھ دور کیے، تمہارے خوف کو امن میں بدلا، لوگوں کے چھوڑ جانے پر تمہیں اپنی پناہ دی، بیماری میں تمہیں شفا دی، بھوک میں کھلایا اور پیاس میں سیراب کیا۔ " چند سطروں پر مشتمل یہ خیال اپنے اندر پورا ایک جہان سموئے ہوئے ہے، کیونکہ مؤمن کی پوری زندگی دراصل اپنے محسنِ حقیقی کی پہچان کا سفر ہے اور جنت اس پہچان کی تکمیل کا نام ہے۔

ہماری زندگی پر اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی کامیابیوں سے کہیں زیادہ اس کی ناکامیاں اسے اللہ کے قریب کرتی ہیں۔ کتنی ہی راتیں ایسی گزریں جب کسی انسان نے ہمارا دروازہ نہ........

© Daily Urdu (Blogs)