menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pehli Barf Bari

20 0
23.08.2026

مقامی لوگوں سے سُنا تھا کہ نومبر کے وسط سے برفباری شروع ہو جاتی ہے، نومبر کا تیسرا ہفتہ ختم ہونے کو تھا لیکن برف ناپید، کمرے میں میرا اور مدنی کا بستر دیواروں کے دائیں بائیں اور درمیان میں خالی جگہ تھی، ایک رات سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا، کمبل ٹھیک سے کھینچ کھانچ کر برابر کیا لیکن سردی بڑھتی جا رہی، اٹھ کر ہیٹر آن کیا، لیکن سردی کم ہونے کا نام نہ لے، مدنی مجھے آوازیں دے "میرا کمبل چھوڑ" اور میں جوابی کہوں "میرا کمبل چھوڑ!" ٹھنڈ کا غلبہ ہوا، مدنی مزے سے سو رہا تھا، اس کا کمبل اتارا اور ڈبل کمبل اوڑھ کر سو گیا، تھوڑی دیر بعد پھر ٹھنڈ لگی، دیکھا کہ مدنی میرا کمبل اوڑھے سو رہا تھا، دونوں کمبل مدنی کے اوپر سے اتارے اور خود تان کر سو گیا، وہ رات ایک دوسرے کا کمبل چُراتے اور ٹھنڈ سے کپکپاتے گزری۔

صبح ہم دونوں کی لڑائی ہوگئی "تم میرا کمبل کیوں کھینچ رہے تھے؟"

"ارے بھائی میں آپ کا کمبل نہیں کھینچ رہا تھا بلکہ اپنا کمبل اوڑھ کر سو رہا تھا"، "ویسے آپ کی نیند بھی کمال ہے، نیند میں آپ کو پتہ نہیں چلتا کہ کہاں ہاتھ مار رہے ہو اور دوسرے کا کمبل کھینچ کر خود پر اوڑھ لیتے ہو"۔ "آپ کی نیند کے بھی کیا کہنے، آپ کے خراٹے سُن کر یہی لگتا ہے کہ گدھے گھوڑے بیچتے وقت اچھا مول ملا تو خود کو بھی بیچ کر سو گئے"۔ "ہم مزے کی نیند کے عادی ہیں، اپنی نیند سونا بھی ایک نعمت ہے"۔ "اپنی نیند سویا کرو، دوسروں کا کمبل مت کھینچا کرو"۔ "ہم حلف دیتے ہیں کہ آپ کا کمبل نہیں کھینچ رہے تھے بلکہ آپ ہمارا کمبل اوڑھ کر سوئے تھے، ہم تو بس اپنا حق یعنی کمبل واپس کھینچا تھا"۔ "اور اس کھینچا تانی میں دوسرے کا حق بھی اس کے اوپر سے نیند میں سوتے ہوئے اتار لیا"۔

"ہم کسی کا حق مارنے کے عادی نہیں، ہاں البتہ کوئی ہمارے حق پر آنکھ رکھے گا تو اس کی سرزنش ہمارا فرض ہے"۔ "ہم بھی اپنے حق پر کسی کو ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے"۔ اچانک باہر کھڑکی کی طرف نظر پڑی، پار یونیورسٹی کی بیرونی ہلکے پیلے رنگ کی دیوار کی بجائے سفیدی سی نظر آئی، کچھ عجیب سا لگا، آگے بڑھ........

© Daily Urdu (Blogs)