Khota Gawach Gaya
زمانۂ ہوسٹل کے فضائل و برکات صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے زندگی کا کچھ حصہ ہوسٹل کی چار دیواری میں گزارا ہو، ہر کمرہ سینکڑوں یادوں، بے شمار شرارتوں، رات گئے ہونے والی محفلوں، امتحان سے ایک رات پہلے کی اجتماعی توبہ اور ایسے ایسے واقعات کا امین ہوتا ہے جنہیں یاد کرکے برسوں بعد بھی بے اختیار ہنسی آ جاتی ہے، گورنمنٹ کالج لاہور کے نیو ہوسٹل میں بھی ہر رات کسی نہ کسی کے پاس ایک نیا قصہ ہوتا تھا، انہی محفلوں میں ایک سینیئر دوست نے ایسا واقعہ سنایا کہ آج تک جب دوست اکٹھے ہوتے ہیں تو یہ قصہ ضرور تازہ ہو جاتا ہے۔
یہ اُس زمانے کی بات ہے جب موٹر وے تعمیر نہیں ہوئی تھی، بسیں ایسے چلتی تھیں جیسے ہر گاؤں میں ان کی سسرال ہو، جہاں کسی نے ہاتھ ہلایا، بس نے بریک لگا دی اور جہاں کسی نے "ڈرائیور بھائی، ذرا روکنا" کہا، وہیں اسٹاپ بن گیا، دوست بتانے لگا کہ اسے بہاولپور سے لاہور آنا تھا، اس نے بڑی دانشمندی دکھاتے ہوئے ڈرائیور کے پیچھے والی سیٹ پر قبضہ جما لیا، سوچا کہ اگر بس کو کچھ ہوا بھی تو کم از کم خبر سب سے پہلے ملے گی، بس بہاولپور سے چلی اور لودھراں کے قریب پہنچی تو ایک شخص سڑک کنارے ہاتھ دے کر کھڑا ہوگیا، لیکن اصل حیرت اس وقت ہوئی جب دیکھا کہ ساتھ ایک گدھا بھی ہے۔
اس نے بڑے اطمینان سے کنڈکٹر سے کہا: "بھائی جان!........
