menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Barfeela Ishnan

28 0
14.03.2026

بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جنہیں الفاظ کی گرفت میں لینا ویسا ہی مشکل ہے جیسے ریت یا پانی کو مٹھی میں قید کرنا، جب برفباری ہو رہی ہوتی اور ہم پوسٹ آفس کی طرف نکلتے، روئی نما برف کے گالے گرتے تو یوں لگتا جیسے روزمرہ زندگی نے چھٹی لے لی ہو اور فطرت خود ہمیں سیر پر لے آئی ہو، سڑک پر پیدل چلتے پاؤں برف میں دھنس جاتے، مگر دل کسی انجانی خوشی میں ہلکان ہو جاتا، ہر قدم کے ساتھ ایک معصوم سی چرچراہٹ سنائی دیتی، گویا برف ہمیں کہہ رہی ہو: "آہستہ چلو، یہ لمحہ ضائع نہ کرو"۔

سرد ہوا گالوں کو چھیڑتی، ناک کو لال کر دیتی اور ہم اپنے آپ کو کسی فلم کے سین میں چلتا پھرتا کردار سمجھنے لگتے، یوں محسوس ہوتا جیسے ہم زمین پر نہیں، ہواؤں میں تیرتے جا رہے ہوں، پوسٹ آفس تو بس ایک بہانہ تھا، اصل دولت وہ چند منٹ تھے جو ہنستے، پھسلتے اور ایک دوسرے کو سنبھالتے گزر جاتے، آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ وہ برف نہیں بلکہ خوشی تھی جو آسمان سے آہستہ آہستہ برستی تھی اور ہم خوش قسمت تھے کہ اس میں بھیگ گئے۔

برفباری ہر دوسرے تیسرے دن معمول بن چکی تھی اور سردی ایسی کہ بندہ وضو کے پانی سے بھی استخارہ کرنے لگے، باہر نکلتے تو یوں لگتا جیسے ہوا نہیں، فریزر چل رہا ہو، انہی دنوں مدنی کہیں سے برفیلے ٹھنڈے پانی میں نہانے کا فلسفہ سیکھ کر آیا، بڑے جوش سے فوائد گنوانے لگا: "اس سے قوتِ........

© Daily Urdu (Blogs)