Qaidion Ka Maseeha
اسلام دنیا میں واحد دین ہے جس میں قیدیوں کے لئے بھی خصوصی مقام ہے اور قیدیوں کی رہائی بھی نیکی شمار کی جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس کے ایک عضو کو جہنم سے آزاد فرمائے گا"۔ (صحیح مسلم)
علماء فرماتے ہیں کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو قید یا غلامی سے نجات دلانا بہت بڑی نیکی ہے۔
دنیائے تاریخ نے قیدیوں کے حقوق کی پہلی عملی مثال دیکھی جب کائنات کے رحمت اللعالمینﷺ نے غزوۂ بدر کے بعد قیدیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔ بعض قیدیوں کو فدیہ لے کر آزاد کیا گیا اور جو فدیہ ادا نہ کر سکتے تھے، انہیں تعلیم دینے کے بدلے آزادی دی گئی۔
کئی مواقع پر بلا معاوضہ بھی رہائی دی گئی۔
بعد از بزرگ توئی قصہ مختصر
کے بعد، حضرت ابو بکر صدیق کا نام آتا ہے جن کا آزادی دلانا ان کی مستقل عادت اور پسندیدہ عمل تھا اور انہوں نے ہی گوھر نایاب حضرت بلال حبشی کو آزادی دلائی تھی۔ ظاھر ہے کہ صدیق کے بعد شھید کی باری آتی ہے اور شھید بھی ایسا کہ جس گلی سے ابن خطاب گزرتے تھے، تین دن تک شیطان مردود اس گلی سے نہیں گزرتے تھے۔ انہوں نے اپنے خلافت کے دور میں قیدیوں کے ساتھ عدل و انصاف کو یقینی بنایا۔
اگر کسی مسلمان کو دشمن نے قید کیا........
