Hum Karachi Walay Hain
"ہم کراچی والے ہیں"۔ یہ بظاہر ایک سادہ سا جملہ ہے، مگر اس کے پیچھے ایک ذہنیت چھپی ہوئی ہے ایک ایسا نقطہ نظر جو ابتدا میں فخر کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، مگر اکثر غیر محسوس انداز میں خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے کے احساس میں بدل جاتا ہے۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، ایک میٹروپولیٹن شہر جو کہ ساحل سمندر پر واقع ہے۔ ایسے ماحول میں رہنا لوگوں کے اندر ایک قدرتی اعتماد، وسیع النظر سوچ اور شہری شعور پیدا کرتا ہے۔ یہ بات حقیقت میں مثبت ہے، کیونکہ شہری شعور اور آگاہی انسان کی ترقی اور معاشرتی بیداری میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ فطری فخر اپنی جگہ رہ کر دوسروں کے ساتھ تعلق کے رویے میں تبدیل نہ ہو بلکہ برتری کے احساس کا سبب بن جائے۔
پاکستان کے قیام کے بعد، ہندوستان سے جو لوگ ہجرت کرکے کراچی آئے، انہوں نے اپنی محنت، مہارت اور ثقافت کے ساتھ شہر کی ترقی میں حصہ ڈالا۔ جو لوگ کراچی میں بسے، ان میں اکثر خود کو اعلیٰ شہری سمجھنے کا احساس پیدا ہوا اور یہ رویہ آہستہ آہستہ معاشرتی تعلقات میں نظر آنے لگا اور انہیں میں سے جو ہجرت کرکے دیگر شہروں میں بسے جیسے حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، نوابشاہ یا ملتان، ان کی نظر میں کراچی والوں کے ذہن میں وہ کم اہم یا ثانوی حیثیت کے شہری بن گئے۔ یہ رویہ اکثر لاشعوری طور پر پایا جاتا ہے، مگر اثرات اس کے واضح ہیں، سماجی تعلقات، زبان اور روزمرہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں یہ محسوس ہوتا ہے۔
یہ رویہ خاص طور پر زبان........
