Abna e Hormuz Aur Jazeera e Kharg
آبنائے ہرمز اور جزیرہ خرگ
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تناؤ نے ایک بار پھر دنیا کی توجہ ایک نہایت اہم سمندری راستے کی طرف مبذول کر دی ہے اور وہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس کے قریب واقع بھی عالمی خبروں کا حصہ بن چکا ہے۔ بظاہر یہ دونوں مقامات نقشے پر چھوٹے دکھائی دیتے ہیں، مگر حقیقت میں یہ عالمی معیشت، توانائی اور جنگی حکمتِ عملی کے ایسے مراکز ہیں جن پر پوری دنیا کی نظریں جمی رہتی ہیں۔
آبنائے ہرمز ایک تنگ مگر انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے جو خلیج فارس کو خلیج عمان اور آگے بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ اس کے شمال میں ایران جبکہ جنوب میں عمان اور متحدہ عرب امارات واقع ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سے دنیا کی توانائی کی نبض دھڑکتی ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل کا تقریباً بیس فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ اگر یہ گزرگاہ کسی بھی وجہ سے بند ہو جائے تو نہ صرف تیل کی ترسیل رک سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔ تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں، صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے اور عالمی تجارت سست روی کا شکار ہو........
