menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pemana Badlein

28 0
02.03.2026

چند روز قبل میں اپنے مقدمات کی پیروی کے سلسلے میں سول کورٹس کے کوریڈور میں ایک عدالت سے دوسری عدالت جا رہا تھا۔ ایک بزرگ سائل ہاتھ میں کاغذات لیے مسلسل ایک نوجوان کلرک کے پیچھے پیچھے گھوم رہا تھا۔ وہ بار بار مؤدبانہ انداز میں کہتا: "بیٹا، میری فائل میں فلاں فلاں دستاویزات بھی لگا دو کافی دن ہو گئے ہیں"۔

کلرک نے جھنجھلا کر کہا: "بابا جی، اتنے سیدھے مت بنیں، یہاں سیدھے لوگ ہی سب سے زیادہ رلتے ہیں"۔

یہ سن کر بزرگ نے آہستہ سے مسکرا کر کہا: "بیٹا، میں سیدھا نہیں ہوں، بس غلط ہونا نہیں چاہتا"۔

مگر کوریڈور میں کھڑے کئی لوگ ہنس پڑے۔۔ جیسے بزرگ نے کوئی حماقت کر دی ہو۔ اس لمحے مجھے شدت سے احساس ہوا کہ ہمارے ہاں سچ اور شرافت اب سنجیدگی نہیں، تماشہ بن چکے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ایک عجیب الٹا پیمانہ رائج ہے۔ یہاں اگر کوئی شخص دھیمے لہجے میں بات کرے، سیدھی سادھی بات کرے، دلیل سے اختلاف کرے، سچ کو بغیر ملاوٹ پیش کرے اور گفتگو میں شرافت کو ہاتھ سے نہ جانے دے تو فوراً اس پر "بھولا"، "سیدھا" یا "کچھ زیادہ ہی شریف" ہونے کی........

© Daily Urdu (Blogs)