Dolat Peha Qareena Hai
کہتے ہیں ایک زمانے میں کچھ کچھ حسن نظروں میں بھی ہوتا تھا مگر آج کل نظریں سب سے پہلے جیب دیکھتی ہیں پھر دل تک اترتی ہیں۔ شاعر سے معذرت کے ساتھ گویا "دولت پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں"۔ میں نے ایک شادی کی محفل میں یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا: ٹیبل پر میرے پچھلی ٹیبل پر بیٹھی ایک مہمان خاتون نے ساتھ بیٹھی خاتون سے مخاطب ہو کر بآواز بلند کہا کہ دلہن بہت خوبصورت ہے مگر دلہا دیکھو کیسا ہے، قد بھی کم ہے، رنگ بھی گندمی سا ہے۔
اس کی بات سن کر دوسری مہمان نے کہا "بات تو تمہاری ٹھیک ہے مگر دولہا بیرونِ ملک سیٹل ہے، پاکستان میں بھی سافٹویئر کا اپنا بزنس ہے" تو عین اسی لمحے کے بعد اس تنقید کرنے والی خاتون کی باتوں سے میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ دلہے کا قد کچھ انچ بڑھ گیا، رنگ نکھر آیا اور چہرے پر ایسی وجاہت اُتری جیسے بینک بیلنس نے اسکے چہرے پر حسن کی تہہ چڑھا دی ہو۔ اس دن مجھے پہلی بار شدت سے احساس ہوا کہ........
