Maa
گاوں میں ہمارا گھر تھا اور گھر کچا تھا۔ ابا میاں عراق میں تھے، وہاں کام کرتے تھے، تب ہم چار بھائی اور ایک بہن تھے۔ بہن تو سکول جاتی پھر گھر میں رہتی۔ چوتھا بھائی بہت چھوٹا تھا۔ ہم تین بھائی ذرا بڑے تھے، یہی کوئی دس سے بارہ سال کی عمریں تھیں۔ مَیں سب سے بڑا تھا، مجھ سے چھوٹا علی اصغر مرحوم 10 سال کا تھا اور اُس سے چھوٹا افضل سات سال کا۔ ہمارے گھر میں تین عدد بڑے کوٹھے تھے۔ گرمی کے دن صحن میں گزرتے جس میں ٹاہلیوں کی چھاوں ہوتی تھی۔ رات کو سب کی چارپائیاں اِسی میں بچھ جاتیں۔ صحن ذرا بڑا تھا۔ ایک کونے پر بھینسیں بندھی ہوتی تھیں اور دوسرے کونے پر ہم ہوتے تھے۔ سردیاں آتیں تو ایک کوٹھے میں ہم سب سوتے تھے۔ دوسرے کمرے میں چار بھینسوں کو باندھا جاتا۔ تیسرا کمرہ آگ جلانے کے کام آتا تھا۔ ہم تینوں بھائی سکول جانے سے پہلے اور سکول سے آنے کے بعد بھینسوں کی دیکھ بھال میں پھنسے رہتے۔ کبھی اُن کے واسطے چارہ لانا، کبھی نہر پہ لے جا کر نہلانا اور پانی پلانا۔
بھینسوں کا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ بندہ خود تو بھوکا رہ سکتا ہے اُنھیں نہیں رکھ سکتا۔ ایک دن ہوا یہ کہ سردیاں کڑاکے کی تھیں اور آج سے تیس سال پہلے ہر سردیاں ہی کڑاکے کی ہوتی تھیں۔ یوں زمین پر سفید برف جم جاتی تھی۔ تالابوں اور نالوں پر برف کی پپڑیاں پڑی ہوتی تھیں۔ بعض تالابوں کی سطحوں پر تو ایسی برف کی تہہ چڑھ جاتی کہ اُن کے اوپر سے بلیاں اور کتے بھاگ کر نکل جاتے اور اُن کے پاوں کو پانی نہ چھو پاتا تھا۔ ہاتھ باہر نکالتے ہی ٹھٹھرتے اور گلے کو لگنے کی کرتے۔
ایک دن کا واقعہ ہے کہ ہم تینوں بھائی سکول سے پڑھ کر آئے۔ بادل ہر طرف گہرے چھائے تھے، یوں جیسے رات کالی نکلی آئی ہو۔ اِدھر ہم تینوں بھائیوں نے بستے گھر میں رکھے اور گدھی پر واہنا رکھا۔ اماں ہماری کہتی رہ گئیں، ابھی کچھ دیر سانس لے لو، بادلوں کا بہت زور ہے، یوں نہ ہو کہ باہر نکلو تو برس پڑیں۔ مگر ہم تب بالکے ہٹ دھرمی اور ضد کے پتھر ہوتے تھے۔ اپنی جگہ جو پکڑتے تھے تو نہ چھوڑتے تھے۔ ہمیں یہ تھا کہ جلد جلد چارہ کاٹ لائیں اور فارغ ہو کر کھیلنے کو جائیں۔ سکول سے آنے کے بعد کتابوں کو دوبارہ ہاتھ سکول ہی میں لگتا تھا۔ چنانچہ چارہ لانے اور کھیلنے کے علاوہ کوئی کام نہ تھا اور تعلیم ثانوی چیز ہوتی تھی۔
سردیوں کے دن یوں بھی چھوٹے ہوتے ہیں۔ ذرا دیر کرتے تو شام ہو جاتی۔ ہم نکل پڑے۔ گدھی ہمارے ساتھ........
