Shakhsiyat Ki Tameer Ghar Se Hoti Hai
شخصیت کی تعمیر گھر سے ہوتی ہے
بچے کو ہر مشکل سے بچا لینا شاید محبت کی سب سے خوب صورت صورت لگتی ہے، مگر کبھی کبھی یہی محبت اس کے قدموں کے نیچے سے زمین کھینچ لیتی ہے۔ والدین چاہتے ہیں کہ ان کی اولاد کو کوئی تکلیف نہ پہنچے، کوئی ناکامی نہ ملے، کوئی دھوکا نہ دے اور زندگی کا راستہ ہموار رہے، لیکن زندگی کسی کے لیے ہموار راستہ نہیں بناتی۔ بچے اگر ہر رکاوٹ سے پہلے والدین کا ہاتھ ڈھونڈنے کے عادی ہو جائیں تو بڑے ہو کر مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت کہاں سے لائیں گے؟ تربیت کا اصل مقصد صرف بچے کو اچھا مستقبل دینا نہیں، اسے مستقبل کی سختیوں کا سامنا کرنے کے قابل بنانا بھی ہے۔
بچوں کو کم عمری ہی میں یہ سمجھانا ضروری ہے کہ زندگی میں ہر مشکل کے وقت کوئی دوسرا شخص ان کے لیے فیصلہ کرنے، راستہ بنانے یا نقصان برداشت کرنے نہیں آئے گا۔ اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انہیں تنہا چھوڑ دیا جائے یا مدد سے محروم رکھا جائے۔ اصل تربیت یہ ہے کہ مدد دستیاب ہونے کے باوجود بچہ اپنی ذمہ داری سے فرار نہ ہو۔ اسے اپنے فیصلوں کے نتائج قبول کرنا، اپنی غلطیوں سے سیکھنا اور مشکل وقت میں گھبراہٹ کے بجائے راستہ تلاش کرنا آنا چاہیے۔ جو بچہ ہر مسئلے کا حل دوسروں کے پاس تلاش کرتا ہے، وہ سہولتوں کا عادی تو ہو سکتا ہے، خود انحصاری کا نہیں۔
اسی طرح جذبات انسانی شخصیت کا لازمی حصہ ہیں، مگر بے قابو جذبات بعض اوقات پوری زندگی کے فیصلے چند لمحوں میں بدل دیتے ہیں۔........
