Karbala Khatam Nahi Hui
بعض دن تاریخ کے اوراق پر نہیں اترتے، بلکہ انسان کے ضمیر پر نقش ہو جاتے ہیں۔ وہ صدیوں کے فاصلے طے کرکے ہر نسل کے دروازے پر دستک دیتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ تم نے حق، سچائی اور انسانیت کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ یومِ عاشورہ بھی ایسا ہی ایک دن ہے۔ محرم کی دسویں صبح جب افق پر سورج طلوع ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صحرائے کربلا کی ریت آج بھی گرم ہے، فرات کا کنارا آج بھی تشنہ لبوں کی گواہی دے رہا ہے اور تاریخ کے سینے سے ایک آواز آج بھی بلند ہو رہی ہے جو انسان کو اس کی اصل پہچان یاد دلاتی ہے۔ یہ صرف ایک دن نہیں، ایک احساس ہے۔۔ صرف ایک واقعہ نہیں، ایک آئینہ ہے اور صرف ایک یاد نہیں، بلکہ انسانیت کے ضمیر میں گونجتی ہوئی ایک لازوال صدا ہے۔
کربلا کی داستان کو اگر صرف ماضی کا ایک باب سمجھ لیا جائے تو شاید ہم اس کی حقیقت تک کبھی نہ پہنچ سکیں۔ کیونکہ کربلا تلواروں کی جنگ سے کہیں بڑھ کر اقدار کی جنگ تھی۔ ایک طرف اقتدار کی قوت تھی اور دوسری طرف حضرت امام حسینؑ کا وہ استقامت بھرا کردار، جس نے دنیا کو یہ سکھایا کہ حق کی عظمت تعداد، لشکر اور وسائل سے نہیں ناپی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ عاشورہ ایک دن، ایک پیغام اور ایک انقلاب بن کر زمانوں سے سفر کر رہا ہے۔ کربلا سے اٹھنے والی صدا آج بھی زندہ ہے، کیونکہ یہ کسی ایک عہد کے انسان سے نہیں بلکہ ہر دور کے ضمیر سے مخاطب ہے۔ یومِ عاشورہ دراصل انسانیت کا امتحان بھی ہے۔ ہر زمانے میں انسان کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وہ طاقت کے ساتھ کھڑا ہوگا یا حق کے ساتھ۔ تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ اکثر لوگ طاقت کو حق سمجھ لیتے ہیں اور حق کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ کربلا اسی انسانی کمزوری کو بے نقاب کرتی ہے۔ حضرت امام حسینؑ نے یہ ثابت کیا کہ سچائی کی طاقت تعداد، وسائل اور اقتدار کی محتاج نہیں ہوتی۔
آج جب ہم اپنے گردوپیش پر نظر ڈالتے ہیں تو محسوس ہوتا........
